احمد آباد: کاغذ پر اور سیاسی میدانوں میں وہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں۔ حتی کہ مسلمہ دشمن سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن کیا گجرات نے انہیں یکجا کردیا ہے یا پھر انہیں بے نقاب کیا ہے۔ یہاں تذکرہ بی جے پی اور اسد الدین اویسی زیر قیادت اے آئی ایم آئی ایم کی خفیہ طور پر ایک دوسرے کی تائید و حمایت کرنے کی بات ہورہی ہے۔ کم از کم کانگریس اور عام آدمی پارٹی تو یہی دعوی کررہے ہیں۔ ایم آئی ایم یا مجلس نے گجرات میں دھیرے دھیرے پیش رفت کی ہے۔ احمد آباد میں 2019ء کے بلدی انتخابات میں اس پارٹی کے 7 امیدوار کامیاب ہوئے۔ گزشتہ سال گودھرا کے بلدی چنائو میں ایم آئی ایم نے 44 رکنی کونسل میں 8 نشستیں جیتے۔ موداسا میں اسے بلدی ادارے میں اصل اپوزیشن پارٹی کا موقف حاصل ہوا جبکہ اسے 9 نشستیں حاصل ہوئیں۔ بھڑوچ میونسپل کونسل میں بھی اس کی ایک سیٹ ہے۔ سیاسی ڈرامے کی شروعات ایم آئی ایم کے گجرات سربراہ صابر کابلی والا کے اعتراف سے ہوئی کہ انہوں نے بی جے پی لیڈر اور احمد آباد کے میئر کیرت پرمار ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی موقعوں پر ملاقات کی ہے۔ کابلی والا کا دعوی ہے کہ ان کی میٹنگ مفاد عامہ میں ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پرمار کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کس مقصد سے ہوئیں اور آیا گجرات اسمبلی انتخابات کے ضمن میں بی جے پی اور مجلس کے درمیان کسی قسم کی مفاہمت ہوئی ہیں، کابلی والا نے کسی بھی قسم کی مفاہمت کی تردید کردی۔ کابلی والا نے کہا کہ میئر کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے ٹیکسٹائل مل ورکرس کا معاملہ اٹھایا۔ گزشتہ 8 ماہ سے تقریباً 1.5 لاکھ مل ورکرس کام کے بغیر گھر پر بیٹھے ہیں۔ ہائی کورٹ نے رولنگ دے دی ہے کہ ٹیکسٹائل ملز ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کے بعد دوبارہ کھولی جاسکتی ہیں۔ مجلسی لیڈر نے کہا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ العمل ہونے سے قبل کھول دیا جانا چاہئے۔ اسی سلسلہ میں میری میئر سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ کابلی والا نے کہا کہ 30 اکٹوبر کو ٹریٹمنٹ پلانٹ کے افتتاح کا منصوبہ بنایا گیا۔ تاہم پلانٹ کی تیاری میں ابھی کچھ کام باقی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میئر کے ساتھ میٹنگس میں کوئی سیاسی باتیں نہیں ہوئیں۔ میئر کے ساتھ میری جو تصویر وائرل ہوئی ہے، اسے سیاسی مقصد براری کے ساتھ کاٹ چھانٹ کر وائرل کیا ہے۔ تاہم عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے ان ملاقاتوں میں سیاسی زاویہ کی موجودگی کا دعوی کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے گجرات سربراہ گوپال ایتالیہ نے ہندی میں ٹوئٹ کیا کہ گزشتہ روز احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے بی جے پی میئر کیرت پرمات اور بی جے پی لیڈر دھرمیندر شاہ ایم آئی ایم آفس گئے جہاں انہوں نے ایم آئی ایم گجرات کے سربراہ صابر کابلی والا سے ملاقات کی۔ یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ گوپال کے پارٹی رفیق اور دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے بھی ایک ہندی ٹوئٹ میں کہا کہ گجرات میں کیا ہورہا ہے؟ بی جے پی اور ایم آئی ایم خفیہ میٹنگ کررہے ہیں۔ بی جے پی قوم کو بتائے کہ دونوں کے درمیان کیا معاملت ہے؟ کانگریس کے گجرات ترجمان منیش دوشی نے کہا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ مجلس بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن قائدین کے خلاف مرکزی ایجنسیوں جیسے ای ڈی اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے دھاوے کئے جارہے ہیں لیکن آج تک اویسی کی قیام گاہ یا ان کے دفتر پر کوئی دھاوا نہیں کیا گیا۔ گجرات حکومت ان سے وی آئی پی جیسا برتائو کرتی ہے۔ ایم آئی ایم کو ریالیوں وغیرہ کے لیے تمام تر پرمیشن حاصل ہوجاتے ہیں جبکہ کانگریس ورکرس گرفتار کئے جاتے ہیں۔ کیا ان کا رشتہ واضح نہیں ہے؟