آج نیویارک سٹی ہال میں تقریب ہوگی، ممدانی دادا اور دادی کے قرآنی نسخوں پر بھی حلف لیں گے
نیویارک ۔ یکم ؍ جنوری (ایجنسیز) ظہران ممدانی نے جمعرات کو قرآنِ مجید پر حلف اٹھا کر تاریخ رقم کی اور وہ نیویارک شہر کے پہلے میئر بن گئے جنہوں نے قرآن پر حلف لیا۔امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلم اور جنوبی ایشیائی نژاد میئر ظہران ممدانی نے خانگی تقریب میں اپنے دادا کے نسخہ قرآن کے ساتھ ایک تقریباً دو سو سال قدیم قرآن پر حلف اٹھایا، جو نیویارک کی عوامی لائبریری سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ خانگی تقریب ٹائمز اسکوائر کے نیچے واقع ایک غیر استعمال شدہ سب وے اسٹیشن میں منعقد ہوئی۔ اس کے بعد وہ جمعہ کے روز دن کے وقت نیویارک سٹی ہال میں ہونے والی تقریب میں اپنے دادا اور دادی کے استعمال میں رہنے والے قرآنی نسخوں پر حلف اٹھائیں گے۔ عوامی لائبریری انتظامیہ نے اس قرآن کے انتخاب کو نہ صرف اس کی سادہ اور عملی ساخت بلکہ شہر کی تاریخ کے ایک اہم علمی کردار سے اس کے تعلق کی وجہ سے سراہا۔ لائبریری کے مطابق قرآن کا چھوٹا سائز اور سیاہ و سرخ روشنائی اس بات کی علامت ہے کہ یہ روزمرہ استعمال کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس نسخے پر نہ تاریخ درج ہے اور نہ دستخط، تاہم اس کی باریک نسخ رسم الخط اور سنہری نقش و نگار والی جلد اس کے انیسویں صدی میں شام کے عثمانی دور میں تیار ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔لائبریری انتظامیہ نے کہا کہ اس قرآن کا انتخاب شمولیت، نمائندگی اور شہری اقدار کی ایک بڑی اور بامعنی کہانی کی علامت ہے۔امریکہ میں قرآن پر حلف اٹھانے والے سیاست دانوں کی تعداد محدود ہے۔ نیویارک میں میئر کیلئے کسی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر حلف لینا لازمی نہیں، تاہم ماضی میں کئی میئر بائبل پر حلف اٹھاتے رہے ہیں۔ سابق میئرز نے کبھی خاندانی بائبل اور کبھی تاریخی شخصیات سے منسوب بائبل استعمال کیں، جبکہ ظہران ممدانی کے پیش رو میئر نے بھی خاندانی بائبل پر حلف اٹھایا تھا۔انتخابی مہم کے دوران ظہران ممدانی کی مذہبی شناخت اور یوگنڈا میں پیدائش کے بعد جنوبی ایشیائی نڑاد امریکی ہونے کا پس منظر نمایاں رہا۔ ان کی مہم میں نیویارک کی ثقافتی اور سماجی گوناگونی کو اجاگر کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے شہر پر اثرات اور اس کے بعد امریکہ میں اسلام دشمن رویّوں کے بڑھنے پر کھل کر بات کی، جبکہ دیگر ویڈیوز میں عام شہریوں، خصوصاً مسلم اور تارکینِ وطن برادریوں کے تجربات پیش کیے گئے۔ظہران ممدانی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں اور غزہ میں جاری جنگ پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کے بعض ناقدین نے ان کے پس منظر اور بائیں بازو کی سیاست کو نشانہ بناتے ہوئے سخت الزامات عائد کیے۔تاہم انتخابی مہم کے دوران ظہران ممدانی نے واضح کیا کہ وہ اپنی شناخت چھپانے کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ اپنی ذات بدلیں گے، نہ اپنے طرزِ زندگی کو، اور نہ ہی اس ایمان کو جس پر انہیں فخر ہے۔ ان کے بقول، وہ اب خود کو سائے میں نہیں بلکہ روشنی میں تلاش کریں گے۔
