ظہیرآباد میں اردو ہال کے احیاء کا کام شروع

   

رکن اسمبلی کے مانک راؤ کی خصوصی دلچسپی ، صحافیوں اور دیگر تنظیموں کی جدوجہد کا میاب

ظہیر آباد 9/ فبروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شہر ظہیرآباد کے قلب میں واقع اردو ہال کے احیاء کی دوبارہ تیاریاں مقامی رکن اسمبلی کوننٹی مانک راؤ کی خصوصی دلچسپی کے نتیجے میں شروع ہوچکی ہیں ۔ جو برسوں سے اردو والوں کے تصرف سے باہر تھا اور یہ عملی طور پر دیگر امورمیں استعمال کیا جارہا تھا ۔ اس ضمن میں اردو اخبارات کے مقامی صحافیوں کی جانب سے کئی مرتبہ توجہ دہانی ، اردو شعراء اور مختلف مقامی اردو تنظیموںنے مسلسل نمائندگیاں کی گئی تھیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ اردو ہال کی بازیابی کیلئے اردو اخبارات کے صحافیوں کا اہم رول رہا ہے جو اپنے اخبارات کے ذریعہ اس خصوص میں نیوز شایع کرتے آرہے تھے ۔ اب اردو ہال پھر سے آباد ہونے جارہا ہے۔ اس کی صاف صفائی اور مرمّت کا کام شروع ہوچکا ہے ۔ صدر بی آر ایس ظہیرآباد ٹاون سید محی الدین کے بیان کے مطابق اس ہال کی مزید توسیع کرتے ہوئے اس کی تزئین نو کی جائے گی اور یہاں اردو لائبریری اردو کمپیوٹر کی کلاسس کے علاوہ اردو صحافیوں اور شعراء و ادباء کے اجتماعات منعقد کرنے کی سہولت بہم بھی پہنچائی جائے گی نیز مشاعروں اور ادبی اجلاس منعقد کرنے کابھی یہاں معقول انتظام رہے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہفتہ عشرہ میں یہ اردو ہال قابل استعمال ہوجائے گا اور ایک بہترین مشاعرہ کے انعقاد سے اس کا افتتاح عمل میں آئے گا۔ اردو صحافیوں اور دیگر اردو تنظیموں اور اردو داں نے حکومت تلنگانہ کے علاوہ رکن اسمبلی ظہیرآباد کوننٹی مانک راؤ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں یہ ہال صرف اردو کی ترقی و ترویج کیلئے ہی استعمال کیا جائے گا۔