نیشکر کسانوںکے ساتھ انصاف ضروری: وائی نروتم
ظہیرآباد۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ممبر وائی نورتم نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرائیڈنٹ شوگر س لمیٹیڈ نامی مقامی شوگر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی عمل میں لاتے ہوئے مقامی نیشکر کاشتکاروں کے ساتھ انصاف کرنے کا ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے جاریہ ماہ میں فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے سال 2019020 کے نیشکر بلز کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے مقامی ٹی آر ایس قائدین کی نااہلی کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ ان قائدین کی نااہلی کے باعث انتظامیہ کو دو سال کی تاخیر سے بقایا جات کی ادائیگی کا موقع ملا جبکہ سال2020-21 میں کریشنگ سیزن کا آغاز نہ کرکے مقامی نیشکر کاشتکاروں کو بے پناہ مشکلات کا شکار بنادیا۔ انہوں نے نیشکر کاشتکاروں کے زون میں سال حال 8574 کاشتکاروں کی جانب سے 17400 ایکر اراضی پر لگ بھگ 6 لاکھ ٹن نیشکر کی پیداوار کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مقامی شوگر فیکٹری کے بند ہوجانے کے باعث پیداوار کی فروخت کی فکر نیشکر کاشتکاروں کوکھائی جارہی ہے اور ان کی راتوں کی نیندیں بھی حرام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایک ایسے وقت میں دیگر مقامات کی شوگر فیکٹریاں اپنے اپنے زون کے کاشتکاروں سے نیشکر خریدنے کو ترجیح دے رہی ہیں انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ ظہیر آباد زون کے کاشتکاروں سے نیشکر خریدیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح طور پر کہا کہ مقامی شوگر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی عمل میں نہ لائی جائے تو چھوٹے اور متوسط کاشتکار بے موت مارے جائیں گے۔ انہوں نے مقامی شوگر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر صدر جھرہ سنگم منڈل پریشد رام داس کے بشمول محمد ملتانی، چنگل جئے پال اور دوسرے موجود تھے۔