حلف نامے میں مقدمات کی تفصیلات شامل نہ کرنے کی شکایت، ممتاز قانون داں سلمان خورشید کی بحث
حیدرآباد۔ 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) ظہیرآباد لوک سبھا حلقے سے ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل کے انتخاب کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی گئی۔ کانگریس کے شکست خوردہ امیدوار مدن موہن رائو نے درخواست داخل کی جس میں شکایت کی گئی کہ بی بی پاٹل نے الیکشن کمیشن کو داخل کردہ حلف نامہ میں ان کے خلاف موجود فوجداری مقدمات کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ انتخابی قواعد کی خلاف ورزی پر بی بی پاٹل کا انتخاب منسوخ کیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے سینئر قانون داں سلمان خورشید نے مدن موہن رائو کی جانب سے آج عدالت میں دلائل پیش کئے۔ بحث کی سماعت کے بعد عدالت نے بی بی پاٹل، الیکشن کمیشن اور ٹی آر ایس کو نوٹسیں جاری کی ہیں اور چھ ہفتوں میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 2019ء لوک سبھا انتخابات میں مدن موہن ریڈی کو 6 ہزار ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست ہوئی تھی۔ عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بی بی پاٹل کا انتخاب برقرار نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس امیدوار نے اپنے مقدمات کو مخفی رکھتے ہوئے جھوٹا حلف نامہ داخل کیا ہے جو الیکشن کمیشن کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ مدن موہن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف 6 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مقدمات کے بارے میں واقف کرانے کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی تشہیر کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن بی بی پاٹل نے اس کی تعمیل نہیں کی۔ ٹی آر ایس امیدوار نے الیکشن کمیشن کو گمراہ کیا ہے لہٰذ ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا جانا چاہئے۔ عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ ٹی آر ایس کے بی بی پاٹل کے انتخاب کو کالعدم کرتے ہوئے کانگریس کو کامیاب قرار دیا جائے۔