کمرے میں چار دنوں تک قید، کھانا پانی بند اور حمل ضائع کرنے کا الزام
احمد آباد:احمد آباد کی 23 سالہ عائشہ کی خودکشی کو لے کر نئے خلاصے ہورہے ہیں، اسی دوران عائشہ خودکشی معاملے میں عائشہ کے والد لیاقت اور ان کے وکیل نے عدالت میں وہ خط پیش کیا جسے خودکشی سے قبل عائشہ نے اپنے شوہر کے نام لکھا تھا،اس میں عائشہ نے اپنی پوری آپ بیتی درج کر رکھی ہے۔ گزشتہ ہفتے احمد آباد کے سابرمتی ریور فرنٹ سے سابرمتی ندی میں کود کر خودکشی کرنے والی عائشہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں اس معاملے کو لے کر غم وغصہ تھا، لوگ سوشل میڈیاکے ذریعے عائشہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے لگے تھے اور جسٹس فار عائشہ سے ٹرینڈ بھی چلانا شروع کردیا تھا۔اس کے بعد پولس حرکت میں آگئی تھی، پولس نے اس معاملے میں شکایت درج کرتے ہوئے راجستھان کے پالی سے عائشہ کے شوہر عارف خان کو گرفتار کرلیا تھا۔ اسی درمیان ہفتے کو خودکشی معاملے میں جب عارف کی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اسے پیش کیا گیا تبھی عائشہ کے والد لیاقت کے وکیل ظفر پٹھان نے عدالت میں عائشہ کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تحریر پیش کی۔یہ خط عائشہ نے عارف کو لکھا تھا،جس میں اس نے لکھا تھا کہ’’ تم نے اپنی کرتوتوں کو چھپانے کیلیے میرا نام آصف کے ساتھ جوڑ دیا جبکہ آصف میرا مخلص دوست اور بہترین بھائی ہے۔ خط میں عائشہ نے عارف کے ذریعے خود پر کیے گئے مظالم کے بارے میں بھی لکھا ہے۔عائشہ نے لکھا ہے کہ تم نے مجھے چار دن کیلیے کمرے میں بند کردیا تھا، نہ کھانا دیا تھا نہ پانی دیا اور میں اس وقت حمل سے تھی، تب بھی تم نہیں آئے میری مدد کیلئے اور جب آئے تب مجھے خوب مارا پیٹا تھا جس کی وجہ سے میرا چھوٹا آرو آصف مر گیا اب میں اس کے پاس جارہی ہوں۔
اس خط میں عائشہ نے لکھا ہے کہ میں نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا، تم نینستی کھیلتی زندگی کو اجاڑ دیا، آئی لویو کو‘ میں غلط نہیں تھی، بلکہ تمہارا برتاو غلط تھا، تمہاری آنکھوں پر میں فدا تھی، لیکن کیوں یہ میں آئندہ زندگی میں ہی بتا پاوں گی، اتنا لکھنے کے بعد عائشتہ لکھتی ہے۔لو یو، یور وائف عائشہ عارف۔ادھر عارف کے تین دن کا ریمانڈ ختم ہوتے ہی پولیس نے اسے کورٹ میں پیش کیا، پولیس نے کہاکہ اب ان کے پاس عارف کے خلاف ثبوت ہے جس کی وجہ سے انہیں عارف کی پولیس تحویل نہیں چاہئے، اور کورٹ نے عارف کو جوڈیشیل کسٹڈی کیلیے بھیج دیا۔اس کے ساتھ ہی خودکشی معاملے کی تحقیقات کررہی ریور فرنٹ پولیس کو عائشہ اور عارف دونوں کا ہی موبائل ہاتھ لگ چکا ہے، اب پولیس کو یہ خط بھی مل گیا ہے جس کی اب فارنسک جانچ ہونے کے بعد چارج شیٹ فائل کی جائے گی۔عائشہ کے اہل خانہ کا یہ بھی الزام ہے کہ عارف کسی اور لڑکی کے ساتھ محبت کرتا تھا۔