عادل آباد بی جے پی ایم پی کی شرانگیزی کیخلاف مقدمہ

   

Ferty9 Clinic

بھینسہ پولیس کی کارروائی ، متنازعہ ریمارکس اور عوام میں نفرت پھیلانے کا الزام

بھینسہ : بھینسہ شہر ملک گیر سطح پر ایک حساس مقام تصور کیا جاتا ہے جہاں گذشتہ پندرہ ماہ میں تین فرقہ وارانہ فسادات پیش آئے تھے جہاں تلنگانہ حکومت سرکاری مشنری بالخصوصمحکمہ پولیس امن و امان کی برقراری کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرتے ہوئے متحرک انداز میں اپنی خدمات میں شب و روز مصروف ہے لیکن شرپسندوں کی جانب سے شہر کے امن و امان کو پامال کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہ رکھتے ہوئے شرپسندی اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے دونوں طبقوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے ٹاؤن سرکل انسپکٹر آف پولیس پراوین کمار نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایاکہ گذشتہ روز بھینسہ شہر کے کوتی دیوڑو کے قریب منورکاپو سنگم بھون میں سیوابھارتی کے زیراہتمام منعقد ہوئے ایک اجلاس میں عادل آباد کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سوئم باپو راؤ نے متنازعہ ریمارکس کا اظہار کرتے ہوئے ایک طبقے کو نشانہ بناکر جذبات کو مجروح کرنے اور دونوں طبقات کی عوام میں نفرت پھیلاتے ہوئے ایک دوسرے کو اْکسانے اور بھڑکانے کے علاوہ شرپسندی و اشتعال انگیزی کی جس پر بھینسہ پولیس فوراً حرکت میں آتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمان عادل آباد سوئم باپو راؤ کے خلاف سوموٹو(somoto) میں کرائم نمبر 160/2021 دفعات 153A اور C 505(1) آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ آنے والے تہواروں بالخصوص گنیش تہوار کے پْرامن اختتام کیلئے بھینسہ پولیس ہر ممکنہ کوشش میں مصروف دیکھی جارہی ہے لیکن عوامی منتخبہ بی جے پی نمائندہ کی جانب سے ایک ہی طبقے کے خلاف شرپسندی و اشتعال انگیزی سے بے چینی و تشویش پائی جارہی ہے۔