عادل آباد فائرنگ واقعہ میں زخمی سید ضمیر فوت

,

   

نماز جنازہ میں سینکڑو ں افراد کی شرکت، رکن اسمبلی جوگو رامنا اور دیگر نے ورثاء کو پرسہ دیا

حیدرآباد : عادل آباد فائرنگ واقعہ میں شدید زخمی سید ضمیر حیدرآباد کے NIMS دواخانہ میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ کل شب انہوں نے آخری سانس لی ۔ تفصیلات کے مطابق 18 ڈسمبر کو محلہ ٹائی گوڑہ میں عادل آباد صدر مجلس اتحاد المسلمین فاروق احمد نے سید ضمیر ، محتشم 16سالہ پر اپنی ریوالور سے فائرنگ کی تھی جس کی بناء پر سید ضمیر کو تین عدد اور محتشم کو ایک عدد گولی جسم میں پیوست ہوگئی جنہیں زخمی حالت میں نمس میں شریک کیا گیا تھا ۔ نمس ڈاکٹروں نے محتشم کے جسم سے ایک عدد اور ضمیر کے جسم سے دو عدد گولیاں نکالنے میں کامیابی حاصل کی جبکہ پیٹ میں سے گولی نکالنا دشوارکن ثابت ہورہا تھا ۔ پیٹ میں گولی جان لیوا ثابت ہوئی ۔ انتقال کے بعد بغرض پوسٹ مارٹم نعش کو عثمانیہ دواخانہ منتقل کیا گیا ۔ بعد ازاں نعش کو عادل آباد لایا گیا ۔ سید ضمیر کے نماز جنازہ میں سینکڑو ں افراد نے شرکت کی ۔ بعد ازاں مستقر عادل آباد کے قبرستان میں سپردلحد کیا گیا ۔ سید ضمیر کے خاندان کو پرسہ دینے والوں میں رکن اسمبلی جوگو رامنا ، صدرنشین بلدیہ جوگو پرمیندر ، نائب صدر بلدیہ ظہیر رمضانی ، یونس اکبانی ، سید ساجد الدین ، محمد ظہور الدین ، کانگریس انچارج صدر ساجد خان و دیگر شامل ہیں ۔ انتقال کی اطلاع پر پولیس پٹرولنگ بڑھادی گئی اور ریاپڈ ایکشن فورس کو تعینات کردیا گیا ۔ سید ضمیر مرحوم پانچ سالہ معیاد کے تلگو دیشم پارٹی کے تحت بلدیہ عادل آباد کونسلر منتخب ہوئے تھے ۔ سید ضمیر کی چار دن قبل عادل آباد رکن اسمبلی جوگو رامنا نے نمس دواخانہ پہنچ کر مزاج پرسی کے علاوہ حکومت سے CMRF سے 2.50 لاکھ روپئے اور محتشم کو ایک لاکھ روپئے منظور کرائے تھے ۔ پسماندگان میں دو بیویاں اور ایک لڑکا شامل ہے ۔