عادل آباد ۔ 13 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عادل آباد مجلس بلدیہ کے انتخابی نتائج میں 49 وارڈس میں بی جے پی نے 21 وارڈس پر اپنا قبضہ جماتے ہوئے گزشتہ پانچ سال قبل کے نتائج سے دوگنی اکثریت حاصل کی جبکہ سابقہ انتخابی نتائج میں بی جے پی کو صرف 11 نشستیں حاصل ہوئے تھے۔ اس مرتبہ کے بلدی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین نے اپنا مقام برقرار رکھتے ہوئے بھی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ان انتخابات میں بی آر ایس کو صرف 6 نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ گزشتہ بلدی انتخابات میں بی آر ایس 24 وارڈس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے بادشاہ گر کا موقف بنائے رکھا تھا اور صدرنشین بلدیہ کے عہدہ پر سابق ریاستی وزیر کے فرزند جوگو پرمیندر کو فائز کیا گیا تھا۔ کانگریس پارٹی بھی حالیہ بلدی انتخابات میں بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے سابقہ کی بہ نسبت دوگنی اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے 10 وارڈس میں کامیابی حاصل کی جبکہ گزشتہ انتخابات میں کانگریس نے صرف 5 امیدوار منتخب ہوئے تھے۔ حالیہ بلدی انتخابات کے نتائج میں سابق صدر نشین مجلس بلدیہ جوگو پرمیندر کو اور رنگنینی منیشا جو 2015 کے بلدی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس کے تحت صدرنشین بلدیہ تھیں انہیں بھی ان انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ نائب صدر نشین مجلس بلدیہ ظہیر رمضانی کو جہاں ایک طرف ناکامی حاصل ہوئی وہیں دوسری طرف نائب صدر مجلس بلدیہ فاروق احمد کی اہلیہ ثمینہ بیگم بھاری اکثریت سے منتخب ہوئی ہیں۔ عادل آباد مجلس بلدیہ کے 49 وارڈس میں وارڈ نمبر 44 سے مجلس امیدوار محمد روہیت مجلس کے تحت منتخب ہوکر بی جے پی امیدوار کو شکست سے دوچار کیا۔ مجلس بلدیہ 49 وارڈس میں محمد روہیت کو جو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی وہ کسی بھی دوسرے امیدوار کو حاصل نہ ہوسکی۔ محمد روہت کو حاصل ہونے والی ووٹوں کی اکثریت بلدیہ کے نومنتخب تمام کونسلرس میں ایک ریکارڈ تصور کیا جارہا ہے۔ آزاد امیدوار کے طور پر 5 امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ آرمنیشا سابق صدر نشین بلدیہ بھی بی آر ایس سے بغاوت کرتے ہوئے انڈین فارورڈ بلاک پارٹی پرچم کے تحت 27 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا تھا جو مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔