عادل آباد میں دلتوں کا زبردست احتجاج

   

Ferty9 Clinic

دس لاکھ کی امداد حضورآباد تک محدود نہ کرنے کے بشمول 11 مطالبات

عادل آباد ۔ مستقر عادل آباد کے کلکٹریٹ چوک ہزار دیواسی حکولہ پوراٹا سمیتی ’’ بڑم دیبا‘‘ تنظیم کے زیر اہتمام اپنے گیارہ مطالبات کی یکسوئی کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنا منظم کیا ۔ احتجاجی اپنی تحریری یادداشت ضلع کلکٹر کو دینے میں ناکام ہونے کے بناء پر دلت طبقہ اپنے احتجاج میں شدت پیدا کردی جس کے بناء پر زائد از تین گھنٹہ کلکٹریٹ چوک سے حسب معمول گذرنے والی آمد و رفت متاثر ہوکر رہ گئی ۔ احتجاجی اپنے مطالبہ میں دلت بندھو اسکیم کے تحت دلت افراد خاندان کو فراہم ہونے والے دس لاکھ روپئے حلقہ اسمبلی حضورآباد تک محدود نہ کرتے ہوئے ریاست کے ہر مقام تک پہونچانے پر زور دیا ۔ لمباڑہ طبقہ کو ایس ٹی طبقہ سے خارج کرنے ، آدیواسی طبقہ کی جانب سے کاشت کی جانے والی اراضی کو کاشت کار کی ملکیت قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے دستاویزات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے ۔ ٹرائبیل یونیورسٹی کو ضلع عادل آباد میں قائم کرنے ، جی او ایم ایس نمبر 3 کو مسترد کرنے ، بے زمین آدیواسی کو اراضی فراہم کرنے ، خصوصی ڈی ایس سی کے ذریعہ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے ، آدیواسی طبقہ کو رہائشی مکانات کی غرض سے فراہم کردہ اراضی پر ڈبل بیڈروم تعمیر کرنے ، اوٹنور میجر گرام پنچایت کا انتخاب کرانے ، غیر ایجنسی علاقوں میں گذر بسر کرنے والے ادیواسی افراد کو ایجنسی علاقہ کے افراد کی طرز پر سرکاری حقوق سے فائدہ پہونچانے کامطالبہ کیا۔ ’’بڑم دیبا ‘‘ تنظیم صدر مسٹر گنیش کی قیادت میں سینکڑوں مرد و خواتین نے اس احتجاج میں حصہ لیا ۔ جو ریاستی حکومت کے خلاف سخت نعرے بلند کر رہے تھے ۔