عادل آباد میں دواخانہ کی حالت ابتر ، سہولتوں کا فقدان

   

Ferty9 Clinic

ادویات اور بستروں کی قلت ، ڈاکٹرس کی لاپرواہی ، وبائی بخار کے بے شمار مریضوں کو مشکلات

عادل آباد : ضلع عادل میں تقریباً دو ہفتہ سے ڈینگو بخار جہاں ایک طرف اپنا شکنجہ جمائے ہوئے ہے وہیں دوسری طرف ملیریا بخار کی وجہ سے بے شمار معصوم بچہ مستقر عادل آباد کے RIMS دواخانہ کے علاوہ خانگی دواخانوں میں زیرعلاج ہیں۔ اوٹنور اور نرمل میں بھی ڈینگو بخار کا سلسلہ جاری ہے جس کے پیش نظر عادل آباد کے علاوہ دیگر مقامات کے افراد بھی مستقر عادل آباد RIMS دواخانہ میں علاج کو ترجیح دیا کررہے ہیں ۔ مریضوں (اطفال ) کی کثیرتعداد کے بنا پر RIMS دواخانہ میں موجود بستروں کی قلت پائی جارہی ہے ۔ ایک بستر پر دو مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے علاوہ ازیں کئی ایک افراد بستر نہ ہونے کے بنا زمین پر اپنے بچوں کو علاج کرانے میں دلچسپی کا اظہار جہاں ایک طرف کررہے ہیں وہیں دوسری طرف ضلع کے سرکردہ عہدیداران کی عدم دلچسپی کو محسوس کیا جارہا ہے ۔ عادل آباد جوکہ ضلع کا صدر مقام تصور کیا جاتا ہے جہاں عوامی منتخب نمائندہ رکن لوک سبھا ، رکن اسمبلی اور سرکاری عہدیداروں میں رمس ڈائرکٹر ، ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر ، ملیریا آفیسر اور خصوص کر ضلع کلکٹر بھی موجود رہا کرتے ہیں وہ اگر اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ہر روز کم از کم ایک مرتبہ RIMS دواخانہ کا دورہ کریں تو RIMS دواخانہ کی ابتر حالت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور مریضوں کو ( معصوم بچوں کو ) بہتر علاج دستیاب ہوسکتا ہے ۔ ڈینگو بخار کا معائنہ کرنے کیلئے خون کا نمونہ حاصل کرنے کے تین دن بعد اس کی رپورٹ حاصل ہورہی ہے ۔ چند ایک اطفال سے خون کا نمونہ حاصل کرنے کے بعد رجسٹر میں درج نہ کرنے کی صورت میں مزید تین دن بعد معصوم بچہ سے خون کا نمونہ حاصل کیا جارہا ہے جس کی بناء پر چند مریض بچوں کی رپورٹ حاصل کرنے میں ایک ہفتہ درکار ہورہا ہے ۔ ڈاکٹرس اور نرس اپنی خدمات میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا کرتے ہیں ، کہا جاتا ہے کہ ’’تم ایک ہی مریض ہو کیا ‘‘ ، ادویات کی قلت ظاہر کرتے ہوئے بازار سے ادویات خریدنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ RIMS دواخانہ کی تیسری منزل پر مریضوں کا علاج ہورہا ہے جہاں پینے کے پانی کی سخت قلت ہے ۔ مریض کے ساتھ رہنے والے افراد کو پینے کا پانی گراؤنڈ لیول سے حاصل کرنا پڑ رہا ہے ۔ دواخانہ کے چند ایک افراد مریض کے رشتہ داروں کو خانگی دواخانہ میں بہتر علاج کرانے کا بھی مشورہ دیا کرتے ہیں ۔ 3 کروڑ روپیوں سے تعمیر کردہ RIMS معیاری دواخانہ عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے بنا دواخانہ کی ساکھ متاثر ہورہی ہے جبکہ اس سے ہر روز سینکڑوں افراد استفادہ حاصل کرسکتے ہیں ۔