عادل آباد۔ 9؍ جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عادل آباد ضلع ایس پی مسٹر ویشنو ایس واریر کی تحقیقاتی رپورٹ کے پیش نظر
DGPمسٹر ایم مہندریڈی نے عادل آباد ڈی ایس پی مسٹر کے نرسمہارریڈی اور جنیت ایس آئی مسٹر تروپتی کو ان کی خدمات سے معطل کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق نظام آباد کا متوطن این کلیان کمار جو حیدرآباد میں فوراً اسکور ٹیکنو مارکٹنگ پر ایویٹ لمیٹیڈ کے نام پر ایک فرضی کمپنی چلاتے ہیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ ڈیجیٹل انڈیا کے تحت محکمہ پوسٹ میں ملازمین فراہم کرنے کی غرض 596 سے فی کس 50 ہزار تا دو لاکھ روپئے وصول کرنے کی اطلاع ضلع ایس پی کو ملنے پر 11 اپریل 2018 کو مستقر عادل آباد کے قریب تنتولی روڈ پرموجودہ ایک فنکشن ہال میں ڈی ایس پی کو دھاوا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ اس موقعہ پر ایس آئی مسٹر تروپتی بھی موجود تھے۔ اس پولیس دھاوے میں 3.37 کروڑ روپئے اور 12 افراد کو پولیس نے حراست میں لیا تھا ۔ ڈی ایس پی کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوتے ہوئے ضلع ایس پی مسٹر وشنو ایس واریر نے اپنے طور پر تحقیقات کرالی جس میں ڈی ایس پی اور ایس آئی دونوں فرضی کمپنی کے ساتھ ساز باز کرنے کا الزام عائد ہوا ۔ 12.50 کروڑ ‘ ڈی ایس پی 2.50 کروڑ ایس آئی حاصل کرنے کے الزام کے علاوہ مٹکہ اور گٹکا کا کاروبار کرنے والوں میں ساز باز کی اطلاع ضلع ایس پی نے اپنی رپورٹ میں ڈی ایس پی کو روانہ کیا تھا ۔ جس کے بناء پر ڈی ایس پی مسٹر کے نرسمہاریڈی ایس آئی مسٹر تروپتی دونوں کو ان کے خدمات سے معطل کردیا گیا ۔
