گیاس سیلنڈر کی قلت کے نام پر لکڑی کے چولہوں کا استعمال ، دھویں سے صحت متاثر
حیدرآباد۔30مارچ(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے نواحی علاقوں میں رہنے والے عارضہ تنفس اور پھیپڑوں سے متعلق امراض میں مبتلاء شہریوں کو چوکس و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں شہروں میں کمرشیل پکوان گیس کی قلت کے نتیجہ میں اچانک لکڑی کے چولہوں کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے اور لکڑی کے استعمال کے نتیجہ میں شہر کے بیشتر علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں جہاں شادی خانوں کے علاوہ بعض ریستوراں میں لکڑی کے چولہوں کا استعمال کیا جاتا تھا وہیں گذشتہ 15یوم سے پکوان گیس کی قلت کے ساتھ ہی لکڑی کے چولہوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جس کے نتیجہ میں نکلنے والے دھوئیں سے پھیپڑوں کے متاثر ہونے کے علاوہ دیگر امراض لاحق ہونے کے خدشات میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ ماہرین امراض تنفس کا کہناہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں وہ مریض جو پہلے سے ہی پھیپڑوں کے امراض میں مبتلاء ہیں ان کے امراض میں اضافہ کا خدشہ ہوتا ہے جبکہ کمزور قوت مدافعت کے علاوہ کمزور پھیپڑوں کے حامل افراد میں لکڑی سے چولہے سے اٹھنے والے دھوئیں کے نتیجہ میں نئے امراض لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اسی لئے کھلے مقامات پر اگر لکڑی کے چولہے کا استعمال کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دھواں پھیل کر شہریوں کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے کھلے مقامات پر لکڑی کے بھاری چولہوں کے استعمال سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ماحولیاتی آلودگی میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں ہونے والے امراض کے سبب شہریوں میں کھانسی اور پھیپڑوں کے متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں95 فیصد سے زیادہ پکوان گیس پر ہوا کرتا تھا لیکن اب 50 فیصد سے زائد ریستوراں اور شادی خانوں میں لکڑی کے چولہوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔اس کے علاوہ اب مرکزی حکومت 3