ممبئی: مہاراشٹرا کے سابق وزیر اور ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر ایم اے نسیم خان نے آئندہ حج کیلئے اس سال کا کوٹہ کم کرنے اور مسلم عازمین کو مختلف خدمات فراہم کرنے کیلئے بھاری فیسیں عائد کرنے کے حکومتی اقدام پر تنقید کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں نسیم خان نے کہا کہ اس سے قبل ہندوستان کو حج کمیٹی آف انڈیا کی طرف سے عازمین کا کوٹہ 200000 سے زیادہ تھا جسے کم کر کے اب تقریباً 150000 کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ بقیہ کوٹہ نجی ٹور آپریٹرز کو دیا گیا ہے جو حج کیلئے 500000 روپے سے 1000000 روپے فی شخص تک کی بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔نسیم نے حج کمیٹی کے ملک کے مختلف مقامات سے عازمین کیلئے مختلف رقمیں وصول کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی مہاراشٹرا سے مختلف مقامات پر بھاری فیس حاصل کرتی ہے، مثلاً ممبئی میں 304843 روپے، ناگپور میں 367044 روپے، اورنگ آباد میں 392738 روپے، جو غیر منصفانہ ہے۔نسیم نے دعویٰ کیا کہ عازمین کو 2019 سے پہلے دی گئی قربانی فیس جیسے دیگر فوائد سے بھی محروم کیا جا رہا ہے لیکن جب انہوں نے یہ معاملہ حج کمیٹی کے اراکین کیساتھ اٹھایا تو انہوں نے کہا کہ تمام اختیارات اقلیتی امور کی وزارت نے واپس لے لئے ہیں۔
