عازمین حج کی رقومات واپس کرنے کااعلان

,

   

ریاض۔سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح بن بنتن نے کہا ہے کہ اس سال صرف سعودی شہری اور اقامہ ہولڈر ہی حج ادا کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ کورونا وبا کے خطرات سے بچنے کیلئے سعودی حکومت نے بیرونی ممالک کے حجاج کی میزبانی سے معذرت کی ہے۔وزارت مذہبی امور نے نئی صورتحال کے تحت ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ عازمین حج کی رقوم کی واپسی سے متعلق طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔سعودی عرب کی حکومت نے رواں برس کورونا وائرس کے پیش نظر حج کے شرکا کی تعداد محدود رکھنے اور صرف سلطنت میں مقیم افراد کو حج کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق گزشتہ شب سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر محدود تعداد میں سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے شہریوں کو حج کا موقع دیا جائے گا۔جبکہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹوئٹر پر بھی سعودی وزارت حج و عمرہ کے اس فیصلے کے متعلق آگاہ کیا گیا۔سعودی وزارت حج و عمرہ نے بیان میں مزید کہا کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں پانچ لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں اور 70 لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ کورونا کی وبا اور روزانہ عالمی سطح پر اس وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ طے کیا گیا ہے کہ رواں برس 1441ھ کے حج میں سعودی سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے عازمین کو محدود تعداد میں شریک کیا جائے گا۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ حج محفوظ اور صحت مند ماحول میں ہو۔ کورونا سے بچاؤ کے تقاضے پورے کیے جائیں، عازمین حج کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھا جا سکے اور انسانی جان کے تحفظ سے متعلق اسلامی شریعت کے مقاصدپورے کیے جا سکیں۔ کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سعودی حکومت نے اس سے قبل اپنے مقدس مقامات پر عمرے کی ادائیگی بھی معطل کر دی تھی۔