عاشور خانہ علی سعدؒ اور سیف نواز جنگ کی موقوفہ اراضیات کی فروخت پر امتناع

   

سپریم کورٹ میں مرافعہ سماعت کے لیے قبول ، جناب محمد مسیح اللہ خاں چیرمین تلنگانہ وقف بورڈ کا اظہار اطمینان
حیدرآباد۔14۔ستمبر(سیاست نیوز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے عاشور خانہ علی سعد ؒ اور سیف نواز جنگ کی موقوفہ اراضیات کے معاملہ میں احکامات جاری کرتے ہوئے دونوں اوقافی ادارو ںکی انتہائی قیمتی اراضی کی فروخت پر امتناع عائد کرتے ہوئے مقدمہ کو سماعت کے لئے قبول کرلیا۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے ہائی کورٹ میں عاشور خانہ علی سعدؒ کے معاملہ میں شکست کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا میں خصوصی مرافعہ داخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ وقف بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ مرافعہ کو سماعت کے لئے قبول کرنے کے بعد دو ججس جسٹس بی آر گووی ‘ جسٹس سی ٹی روی کمار پر مشتمل بنچ نے احکامات صادر کرتے ہوئے دونوں اداروں کی مجموعی اعتبار سے 650 ایکڑ موقوفہ اراضی واقع مامڑپلی میں کسی تیسرے دعویدار کو فریق بننے کی اجازت نہ دینے اورفروخت پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں حاصل ہونے والی اس ابتدائی کامیابی کے سلسلہ میں ریکارڈ پر موجود ایڈوکیٹ مسٹر کے پرمیشور کے مددگار وکلاء میں مسزاے سیریگورو پریہ ‘ مسٹر ابو اکرم‘ مسز آرتی گپتا شامل ہیں۔ جسٹس بی آر گووی ‘ جسٹس سی ٹی روی کمار نے فریق مخالف کو اندرون 4 ہفتہ اس مقدمہ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور ان 4ہفتوں کے دوران ان اداروں کے سروے نمبرات میں کسی بھی سروے نمبر پر کوئی رجسٹریشن نہ کروانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ کروڑہا روپئے مالیاتی اس موقوفہ اراضی پر سپریم کورٹ میں حاصل ہونے والی اس کامیابی کو صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے ابتدائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 650 ایکڑ اراضی پر سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے مرافعہ میں دو ججس پر مشتمل بنچ کی جانب سے صادر کیا گیا فیصلہ حوصلہ افزاء ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ اب تک جن مقدمات میں ریاستی وقف بورڈ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ان مقدمات کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلوں کو چیالنج کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ چند ماہ قبل تلنگانہ ہائی کورٹ میں سیف نواز جنگ اور عاشور خانہ علی سعدؒ کی موقوفہ اراضیات کے معاملہ میں ریاستی وقف بورڈ کو ناکامی کے بعد مایوسی پیدا ہونے لگی تھی کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں اراضیات کی فروخت کی پابندی سے بھی انکار کردیا تھا جس کے نتیجہ میں ریاستی وقف بورڈ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں خصوصی مرافعہ داخل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایڈوکیٹ کے پرمیشور کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ شہر کے نواحی علاقہ میں موجود 650 ایکڑ انتہائی قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کے لئے ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں پر کاری ضرب ثابت ہوئی ہیں۔ سال گذشتہ 12نومبر 2021 کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس‘ جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس اے راج شیکھر ریڈی پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ وقف بورڈ کے عاشورخانہ علی سعدؒ اور سیف نواز جنگ کی اراضیات پر ادعا کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے 1989 میں جاری کئے گئے گزٹ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے قابضین کے حق میں فیصلہ صادر کیا تھا لیکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل جدید کے فوری بعد جناب محمد مسیح اللہ خان نے کروڑہا روپئے مالیت کی اس موقوفہ اراضی کے مقدمہ میں ہونے والی ناکامی کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کردہ خصوصی مرافعہ کے متعلق تفصیلات حاصل کرتے ہوئے سینیئر ماہرین قانون کی خدمات کے حصول کے ذریعہ تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیالنج کرنے کے اقدامات پر زور دیا تھا ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ حکومت نے اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو برداشت نہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور فوجداری مقدمات کے اندراج کے معاملہ میں بھی کوتاہی نہ کی جائے ۔ انہوں نے عاشور خانہ علی سعد ؒ اور سیف نواز جنگ کی موقوفہ اراضیات کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد فوری طور پر تحت کی عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے ان سروے نمبرات پر کئے گئے رجسٹریشن اور جائیدادوں کی منتقلی کے فیصلوں کی تنسیخ کے احکامات کی اجرائی کی ہدایت دی اور کہا کہ تحت کی عدالتوں میں اس مقدمہ کی پیروی کے لئے ضرورت پڑنے پر سینیئر وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ان اراضیات کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ جناب ابواکرم نے بتایا کہ اس مقدمہ میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششوں کے باوجود سینیئر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے پرمیشور نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف احکامات کے حصول میں کامیابی حاصل کی ہے اور انہیں توقع ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد تحت کی عدالت ان جائیدادوں کی منتقلی یا فروخت پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی راہ ہموار کرے گی۔م