عالمی امن سے عوام کی اقتصادی اور سماجی ترقی ممکن

   

بھارت سمٹ میں سلمان خورشید اور پلم راجو کا اظہار خیال
سویڈن، پنامہ، منگولیا اور دیگر ممالک کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی قائدین کی شرکت
حیدرآباد 25 اپریل (سیاست نیوز) بھارت سمٹ میں عالمی مندوبین نے جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک ختم کرنے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سویڈن کے سابق وزیر خارجہ این لنڈی، تنزانیہ کی سینئر لیڈر رابعہ عبداللہ، ارجنٹینا کے سوشلسٹ پارٹی لیڈر حامد ماسون، پنامہ کی وزیر برائے بہبودی خواتین ماریہ الیجنڈا پانے، منگولیا اور دیگر ممالک کے ارکان پارلیمنٹ نے سیشن میں حصہ لیا اور انصاف کے اُصولوں پر اپنی رائے ظاہر کی۔ ہندوستان کے سرکردہ سیاسی قائدین سلمان خورشید، ڈگ وجئے سنگھ اور پلم راجو نے عالمی موضوعات پر کانگریس پارٹی کے موقف کی وضاحت کی۔ سابق مملکتی وزیر دفاع ایم ایم پلم راجو نے مہاتما گاندھی رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی قانون، قانون حق تعلیم اور تلنگانہ میں مہا لکشمی اسکیم کا ذکر کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت کے طور پر کانگریس نے منریگا قانون وضع کیا جس کے تحت تعمیری سرگرمیوں میں مقامی افراد کو مقررہ ایام تک روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک میں ہر شخص کو مفت تعلیم کی فراہمی کا حق دیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان میں پہلی مرتبہ تلنگانہ ریاست نے مہا لکشمی اسکیم کے ذریعہ خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کمزور طبقات کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعہ سولار برقی تیاری کے پراجکٹس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے روزگار کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے دی جارہی ٹیکس رعایتوں کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بڑی صنعتوں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ سماج کے ہر شعبہ میں خواتین کی حصہ داری میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ سویڈن کی سابق وزیر خارجہ این لنڈی نے یوروپ کو درپیش چیالنجس کا حوالہ دیا اور کہاکہ پیدائش کی شرح میں کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ورکنگ ویمن کے لئے رعایتوں میں اضافہ یوروپی حکومتوں کے زیرغور ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جنس کی بنیاد پر خواتین سے امتیازی سلوک کے تدارک کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بھارت سمٹ جیسے پروگراموں کے انعقاد سے دنیا بھر کے ممالک کو ایک دوسرے سے مسائل کی بنیاد پر اشتراک میں مدد ملے گی۔ ارجنٹینا سوشلسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر مونیکا فین نے سماجی اور سیاسی ٹرانسفارمیشن کے لئے خواتین کی قیادت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ظاہر کی۔ اُنھوں نے کہاکہ خواتین کی ترقی تک سماج کی ترقی ممکن نہیں۔ تنزانیہ کی سینئر سیاسی رہنما رابعہ عبداللہ نے خواتین کی لیڈرشپ اور عالمی انصاف کے مسئلہ پر علاقائی سطح پر مذاکرات کی تجویز پیش کی۔ منگولیا کے رکن پارلیمنٹ اونڈرم چمبٹ نے خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور آئندہ سمٹ منگولیا میں منعقد کرنے کی پیشکش کی۔ پنامہ کی وزیر بہبودیٔ خواتین ماریا ایلیجنڈرا پانے نے کہاکہ لاطینی امریکہ میں خواتین کی ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ رکن پارلیمنٹ پرنیتی شنڈے نے جنس کی بنیاد پر عدم مساوات کے خاتمہ کے لئے دنیا بھر میں جدوجہد پر زور دیا۔1