عالمی انسانی کوششوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ماہرین ریاض میں جمع

   

ریاض: سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تمام دنیا کے رہنما، عطیہ دہندگان، انسانی ہمدردی کے کارکنان اور ماہرین پیر کو سعودی دارالحکومت میں جمع ہورہے ہیں تاکہ انسانی امداد کے اداروں کو درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے۔کے ایس ریلیف کے مختصر نام سے معروف سعودی امدادی ادارے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے زیرِ اہتمام چوتھا ریاض بین الاقوامی انسانی فورم منعقد ہو رہا ہے جبکہ اسی دوران امدادی ایجنسی کے قیام کی 10 ویں سالگرہ کا موقع بھی ہے۔کے ایس ریلیف کے سپروائزر جنرل عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے اتوار کو میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گول میز اجلاس کے دوران کہا کہ زیرِ بحت آنے والے موضوعات میں تنازعات اور آفات میں انسانی سفارت کاری کا کردار، انسانی امداد اور فراہمی کے تسلسل تک رسائی اور بڑھتے ہوئے تنازعات اور قدرتی آفات کے دور میں نقلِ مکانی سے نمٹنا شامل ہیں۔اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی 2024 کی وسط سال کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جون 2024 کے آخر تک تمام دنیا میں ظلم و ستم، تنازعات، تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا امنِ عامہ کو سنگین طور پر متاثر کرنے والے واقعات کے نتیجے میں کم از کم 122.6 ملین افراد زبردستی بے گھر ہوئے۔ان میں سرِ فہرست غزہ، سوڈان، شام، میانمار، یمن، یوکرین، افغانستان، کانگو اور کولمبیا تھے۔الربیعہ جو شاہی عدالت کے مشیر بھی ہیں، نے دو روزہ ایونٹ کے دوران کہا کہ کے ایس ریلیف سعودی عرب کی انسانی ہمدردی کی کوششوں کے طور پر اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کئی معاہدات پر دستخط بھی کرے گا۔
فورم کے ایک حصے کے طور پر شامل کردہ ایک اور سرگرمی “انسانی امداد میں مصنوعی ذہانت” پر ایک ہیکاتھون ہے جس کا اہتمام کے ایس ریلیف نے الفیصل یونیورسٹی کے تعاون سے کیا ہے۔ الربیعہ نے وضاحت کی کہ ہیکاتھون کا مقصد “صحت کی نگہداشت میں درپیش اہم امدادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے حل کا فائدہ اٹھانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہیکاتھون میں شریک ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کے ماہرین سے توقع ہے کہ وہ “مصنوعی ذہانت، صحت کی نگہداشت اور اختراع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سعودی وڑن 2030 کے مطابق جدید حل تیار کریں گے۔”کے ایس ریلیف نے 2015 سے 175 مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے 95 ممالک میں 6.5 بلین ڈالر سے زیادہ کے 2,670 منصوبے نافذ کیے ہیں۔ اس امداد کا بڑا حصہ یمن (4.3 بلین)، شام (391 ملین)، فلسطین (370 ملین) اور صومالیہ (227 ملین) کو دیا گیا ہے۔کے ایس ریلیف کے پروگراموں میں غذائی تحفظ، صحت، صفائی، پناہ، غذائیت، تعلیم، ٹیلی کمیونیکیشن اور نقل و حمل کی سرگرمیاں شامل ہیں۔