عالمی سطح پر آن لائن تجارت میں اضافہ ریکارڈ

   

کم پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی روزگار کے مواقع ، کورونا وبا کے بعد حالات سے ہم آہنگ تجارتی طریقہ پر توجہ مرکوز
حیدرآباد۔12اکٹوبر(سیاست نیوز) کورونا وائرس وباء نے تجارتی طریقہ کار میں بڑی تبدیلی لائی ہے اور دنیا بھر کے سرکردہ تاجرین کو اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لانی پڑرہی ہے۔ سوپر مارکٹ ‘ ہائیپر مارکٹ کے بڑے نیٹ ورکس کی جانب سے کورونا وائرس وباء کے بعد آن لائن تجارت کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جانے لگی ہے۔ صدرنشین لولو گروپ آف کمپنیز ایم اے یوسف علی نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ عالمی سطح پر آن لائن تجارت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور تیزی سے مارکٹ آن لائن طریقہ کار پر پہنچنے لگا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہائیپر مارکٹ اور سوپر مارکٹ کی تجارت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی فروخت کرنے والے اداروں میں کئی سرکردہ اداروں کی جانب سے ابتداء سے ہی آن لائن تجارت پر بھی توجہ مرکوز کی جاتی رہی ہے مارچ 2020 میں کورونا وائرس کی وباء اور سوپر مارکٹس و ہائیپر مارکٹس پر گاہکوں کے ہجوم کے ساتھ اسٹاک کے خاتمہ کے واقعات اور لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن خریداری کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے بعد دیگر کمپنیوں کے ساتھ سرکردہ کمپنیو ںکی جانب سے بھی اپنی آن لائن تجارت پرتوجہ مرکوز کرنی شروع کردی ہے اور بیشتر کمپنیوں کی جانب سے دنیا کے کئی ممالک میں ڈیلیوری کا نظام بھی متعارف کروایاجانے لگا ہے اسی طرز پر ہندستان میں بھی تیزی سے آن لائن تجارت کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور کئی کمپنیوں کی جانب سے ڈیلیوری ایپ پر انحصار کے بجائے اپنے ڈیلیوری ایپ کی تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ ہندستان میں بھی اب دبئی ‘ یوروپی ممالک اور خلیجی ممالک کے طرز پر آن لائن تجارت کے فروغ کی صورت میں بے روزگاری میں اضافہ کے خدشات کو ماہرین کی جانب سے مسترد کیا جا رہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ آن لائن تجارت کے فروغ سے حالات تبدیل ہوں گے اور کم پڑھے لکھے نوجوانوں کے علاوہ قابل تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی روزگار حاصل ہوگا ۔ سرکردہ تاجرین کا کہناہے کہ تجارتی فروغ کے لئے لازمی ہے کہ تجارتی میدان میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلیوں سے جب تک تجارتی ادارے خود کو ہم آہنگ نہیں کرتے اس وقت تک ان کی ترقی اور کاروبار میں وسعت کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا اسی لئے کورونا وائرس کے بعد پیدا شدہ حالات کو نظر میں رکھتے ہوئے آن لائن تجارت کی جانب سے تمام بڑے تجارتی اداروں اور کمپنیوں کو متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔م