عالمی سطح پر تمباکو اور سگریٹ نوشی کے معاملے میں لڑکوں پر لڑکیوں کو سبقت

   

ہندوستان میں 1000 اسکولس کا سروے ، 13 تا 15 سال عمر کے طلبہ کا احاطہ ، تلنگانہ کا 17 واں مقام
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : سگریٹ ، تمباکو نوشی کے معاملے میں ساری دنیا میں لڑکیاں ، لڑکوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں ۔ اسکولس کے تعلیمی دور سے ہی طلبہ سگریٹ ، تمباکو اور دوسری نشیلی اشیاء کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ پہلے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر لطف اندوز ہونا شروع کردیتے ہیں ۔ پھر وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں ۔ گلوبل یوتھ ٹوبیکو کی جانب سے اہتمام کردہ سروے میں نتائج تشویشناک برآمد ہوئے ہیں ۔ تمباکو کے عالمی سطح کے استعمال میں لڑکوں کا تناسب 22 فیصد ہیں جب کہ لڑکیوں کا تناسب 24 فیصد ہیں ۔ سروے کے چونکا دینے والے نتائج میں دو فیصد زیادہ لڑکیاں تمباکو کی مصنوعات کسی نہ کسی شکل میں استعمال کررہی ہیں ۔ سگریٹ نوشی کے معاملے میں جملہ 2.3 فیصد طلبہ شامل ہیں ۔ ان میں لڑکیوں کا تناسب 2.7 فیصد اور لڑکوں کا تناسب 1.9 فیصد ہے ۔ اسموک لیس ٹویبکو کا 12 فیصد طلبہ استعمال کررہے ہیں جس میں لڑکیوں کا تناسب 13 فیصد اور لڑکوں کا تناسب 12 فیصد ہے ۔ ہندوستان میں نوجوانوں کے تمباکو نوشی کا جائزہ لینے سروے کیا گیا ۔ مرکزی محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی نگرانی میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشنس سنسیس کیا گیا جس میں ملک بھر کے 1000 اسکولس 550 سرکاری 450 خانگی اسکولس کا احاطہ کیا گیا جس میں 13 تا 15 سال عمر کے 80 ہزار سے زائد طلبہ سے بات چیت کی گئی ۔ قومی سطح کے اس سروے میں پتہ چلا ہے کہ 2003 میں 16.9 فیصد طلبہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کے علاوہ دوسرے نشیلی مصنوعات کا استعمال کرتے تھے جس کا تناسب 2019 میں گھٹ کر 8.5 فیصد ہوگیا ۔ ہندوستان میں مجموعی طور پر 9.6 فیصد لڑکے اور 7.4 فیصد لڑکیاں تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں اس معاملے میں 5.2 فیصد تناسب کے ساتھ ریاست تلنگانہ سارے ہندوستان میں 17 ویں مقام پر ہے ۔ گھر کے قریب 23.5 فیصد اسکولس کے پاس 19.5 فیصد دوستوں کے گھروں کے پاس 16.7 فیصد ۔ تقریبات میں 8.7 فیصد عام مقام پر 12.2 فیصد اور دوسرے مقامات پر 19.4 فیصد طلبہ سگریٹ اور تمباکو مصنوعات کا استعمال کررہے ہیں ۔۔ ن