عالمی سطح پر سائبر فراڈ کے خلاف اقوام متحدہ کا انتباہ

   

نیویارک: اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں انتباہ دیا کہ اربوں ڈالر کی رقم اینٹھنے والے سائبر فراڈ کے ایشیائی جرائم کے نیٹ ورکس اب عالمی سطح پر اپنی کارروائیوں کو پھیلاتے جا رہے ہیں۔ ادارے کا مزید کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں سرکاری پابندیاں ایسے گروپوں پر قابو پانے میں ناکام ہوتی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ نے کہا کہ چینی اور جنوب مشرقی ایشیائی گروہ سرمایہ کاری، کرپٹو کرنسی، رومانس کے نام پر اور دیگر گھوٹالوں کے ذریعے متاثرین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق سائبر فراڈ اب ایک ‘جدید عالمی صنعت’ ہے، جس میں وسیع و عریض کمپاؤنڈز موجود ہیں۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں زیادہ تر اسمگل کیے گئے افراد کو شامل کیا جاتا ہے اور انہیں دوسرے لوگوں سے زبردستی آن لائن چھیڑ چھاڑ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔جنوب مشرقی ایشیا میں یو این او ڈی سی کے قائم مقام علاقائی نمائندے بینیڈکٹ ہوفمین کہتے ہیں، “یہ کینسر کی طرح پھیلتا ہے۔ حکام ایک علاقے میں اس کا علاج کرتے ہیں، تاہم اس کی جڑیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دوسری جگہ منتقل ہو جاتی ہیں۔”ادارے کے مطابق ایسی بیشتر سرگرمیاں خانہ جنگی کے شکار ملک میانمار کے سرحدی علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور کمبوڈیا اور لاؤس میں تو اس کے “خصوصی اقتصادی زونز” قائم کیے جا چکے ہیں۔یو این او ڈی سی نے اطلاع دی ہے کہ ایسے نیٹ ورکس اب جنوبی امریکہ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، یورپ اور بحر الکاہل کے کچھ جزائر تک اپنی کارروائیوں کو بڑھا رہے ہیں۔ہوفمین کا مزید کہنا ہے، “یہ ایک فطری توسیع کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ یہ صنعت بڑھ رہی ہے اور کاروبار کرنے کے لیے نئے طریقے اور جگہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔”یو این او ڈی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2023 میں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو سائبر فراڈ سے تقریباً 37 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جب کہ امریکہ کو 5.6 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔رواں برس میانمار میں بیجنگ کی قیادت والے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 50 سے زائد ممالک کے تقریباً 7000 ایسے کارکنوں کو رہا کرایا گیا تھا۔