حکومت کی پالیسیوں اور مسلمانوں کے خلاف رویہ کی مختلف ممالک میں مذمت
نئی دہلی ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے بڑے فخر کے ساتھ کئی وعدے کئے تھے ان میں ایک وعدہ دنیا بھر میں ہندوستان کے وقار کو بحال کرنا بھی ہے لیکن ملک کے موجودہ حالات اور حکومت کے کام کاج سے اس کی تکمیل مشکل معلوم ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف اخبارات اور رسائل میں حالیہ عرصہ میں شائع مضامین اور خبروں کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کو عالمی سطح پر پشیمانی کا سامنا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل نے اپنے ایک آرٹیکل میں مودی حکومت کے عدم استحکام اور جمود کا ذکر کیا ہے۔ فینانشیل ٹائمس کے مارٹن وولف نے حکومت ہند کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ ایک اور کالم نگار گڈیان راچمین غیرآزادانہ پالیسی کے طریقہ کار کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹائم میگزین جو امریکہ بھر میں زیادہ پڑھا جانے والا ہے، نے مودی کو انڈیا کا ’’ڈیوائیڈر ان چیف‘‘ لکھا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کئی تنقیدی مضامین شائع کئے ہیں اور ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا ہے جس میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی لائبریری میں پولیس کی بربریت اور حملہ کو دکھایا گیا ہے۔
ستیہ ناڈیلا چیف ایگزیکیٹیو مائیکرو سافٹ نے سی اے اے کو خراب قرار دیا۔ جرمنی کے مشہور ہفتہ وار ڈیر اسپیگل نے مودی کے قومیت کے نظریہ کو مذہبی قرار دیکر تنقید کی۔ فرانس کے روزنامہ لیمونڈ نے مسلمانوں کو حاشیہ بردار بنانے کا تذکرہ کیا۔ مضمون میں مودی کے دست راست امیت شاہ پر بھی تنقید کی گئی۔ آسٹریلیا کے ’’سڈنی مارننگ ہیرالڈ‘‘ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مسلح افراد کے حملہ کی تفصیلات بیان کی ہے
جبکہ دہلی انتخابات کی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف تشدد کیلئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے نعرے کا بھی ذکر کیا۔ جنوبی افریقہ کے ’’میل اینڈ گارڈین‘‘ نے مودی حکومت سے متعلق کئی منفی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ جوہانسبرگ کے ’’بزنس ڈے‘‘ میں احتجاجیوں کے خلاف مودی حکومت کے سخت رویہ پر مضمون پیش کیا گیا ہے جبکہ یوگی ادتیہ ناتھ کے اس وعدے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے احتجاجیوں سے بدلہ لینے اور املاک کو ہوئے نقصانات پابجائی کا اعلان کیا تھا۔ برطانیہ میں بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاجیوں پر حملہ اور ایک بندوق بردار کے فائرنگ کا تذکرہ ہے۔ اکنامسٹ میں بھی دہلی تشدد کا ذکر کرتے ہوئے مودی حکومت کی پالیسی کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر گروپس پر حملوں کے موقع پر پولیس کی عدم کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہیں۔ انڈونیشیا کی حکومت نے بھی ہندوستان کے حالات پر ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے بات چیت کی۔ ایران کے وزیرخارجہ نے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کے لہر کی مذمت کی۔ بنگلہ دیش حکومت نے بھی اس پر احتجاج درج کروایا۔ جرمنی نے بھی دہلی تشدد کے دوران مساجد کو نقصان پہنچانے کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ نیویارک ٹائمس نے بھی ہندوستان کے حالات پر مضامین جاری کئے ہیں۔ 3 مارچ کو شائع اپنی رپورٹ میں سوال کیا گیا ہیکہ مسلمانوں پر حملوں کے وقت دہلی پولیس نے انہیں روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا۔