عالمی سطح پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا اولین ترجیح

,

   

کورونا وائرس پرعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا ہنگامی اجلاس

نیویارک،30جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چین اور دنیا کے دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ کے بعد اب ڈبلیو ایچ او(عالمی ادارہ صحت) نے کورونا وائرس کی وبا کے صحت عامہ کی عالمی ہنگامی صورتحال کے تعین کیلئے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آڈہانوم گیبریس نے جنیوا سے آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘ چین میں اور عالمی سطح پر اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ڈبلیو ایچ او کی اولین ترجیح ہے ’’۔انہوں نے کہا کہ ‘‘ ہم ہر دن کے ہر لمحہ کی صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں’’۔ایمرجنسی کمیٹی اس بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر سفارشات بھی پیش کرے گی۔صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے دنیا کے مختلف دارالحکومتوں سے پریس کانفرنس میں شرکت کیلئے صحافیوں کیلئے انتظاامات کئے گئے ہیں۔گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی نے 2 روز جاری رہنے والی ملاقات میں فیصلہ کیا تھا کہ چونکہ وائرس چین میں ایک شدید تشویش کا باعث ہے لہٰذا یہ اب تک عالمی ایمرجنسی نہیں تھا۔اس وقت مذکورہ معاملہ پر ووٹ تقریباً تقسیم تھا اور آج ہونے والے اجلاس میں یہ تعین کیا جائیگا کہ وائرس اب ایمرجنسی ہے یا نہیں۔عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی ڈیزیز یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ وان کیرکہو نے تمام اقوام کو خوف و ہراس سے بچنے اور بیماری پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ‘‘ تمام ممالک کیلئے ہماری ہدایت ہے کہ کیسز کی فوری شناخت کریں، مریضوں کو الگ تھلگ کریں اور علاج فراہم کریں اور گھر کے افراد سمیت سب سے انسانی روابط سے بچیں۔ڈاکٹر ماریہ وان نے حکومتوں، ایجنسیوں اور میڈیا کو ذمہ داری سے خطرات بیان کرنے اور گمراہ کن معلومات ؍اطلاعات سے گریز کی بھی ہدایت کی۔وائرس ہوا سے پھیلنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تنفس کے ذریعہ اور براہ راست جسمانی روابط سے منتقل ہوتا ہے ۔ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ اس وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ تشویش کا باعث ہے لیکن اب تک انہیں یقین نہیں کہ ایسا کیسے ہوا۔انہوں نے کہا کہ ’’ ہم اپنے پاس موجود علم کا استعمال کرتے ہیں اور وائرس کو روکنے کیلئے حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں، ہم پیچھے ہٹنے اور کچھ نہ کرنے کا انتخاب نہیں کرسکتے ‘‘۔