ٹنالا : انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے اپیل کے ججوں نے کانگو کی ملیشیا کے سربراہ بوسکو نٹیگنڈا کی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سنائی گئی 30 برس قید کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق اپیل سننے والے بینچ کے سربراہ جج ہاورڈ موریسن نے کہا کہ بوسکو نٹیگنڈا کی اپیل میں اٹھائے گئے تمام سوالات کو مسترد اور سزا کو برقرار رکھا جاتا ہے۔بوسکو نٹیگنڈا کے وکلا نے اپیل میں سزا ختم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ٹرائل میں قانونی خامیاں موجود تھیں۔ججوں نے بوسکو نٹیگنڈا کے وکلا کی جانب سے سزا کے خلاف اٹھائے گئے تقریباً تمام سوالات کو مسترد کردیا۔یاد رہے کہ کانگو کی ملیشیا کے سربراہ کو 2019 میں قتل، ریپ اور دیگر جرائم کے ارتکاب پر 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ان پر الزام تھا کہ جب وہ عوامی جمہوریہ کانگو میں 2002 سے 2003 تک یونین آف کانگولیز پیٹریاٹس (یو پی سی) ملیشیا کے عسکری سربراہ تھے تو اس دوران انہوں نے جنگی جرائم کیے۔کانگو میں اس جنگ کے دوران سیکڑوں شہریوں کو قتل کیا گیا تھا اور ہزاروں افراد ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے۔بعد ازاں رواں ماہ کے اوائل میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ججوں نے فیصلہ دیا تھا کہ کانگو کی ملیشیا کے سربراہ بوسکو نٹیگنڈا سزا یافتہ ہیں اور انہیں لڑائی میں استعمال ہونے والے بچوں اور دیگر متاثرین کو 3 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔
