بڑے کاروباری اداروں کے منافع پر کم از کم 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے جی-20 کا فیصلہ
روم: دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کے گروپ جی-20 کے قائدین نے ایک عالمی معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت بڑے کاروباری اداروں کے منافع پر کم از کم 15 فیصد ٹیکس لگے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے ( بی بی سی) کے مطابق اٹلی کے شہر روم میں جی-20 سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بڑے کاروباری اداروں کے منافع پر کم از کم 15 فیصد ٹیکس لگے گا۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے کم ٹیکس دائرہ کار کے ذریعہ اپنے منافع کو ری روٹنگکرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رائٹرز کے مطابق امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ ٹیکس ڈیل کو باضابطہ طور پر اپنائے جانے کی توقع ہے جس کے بعد اسے 2023 تک نافذ کر دیا جائے گا۔جی-20 گروپ جو 19 ممالک اور یوروپی یونین پر مشتمل ہے ، روم میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں چین کے صدر ژی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ویڈیو لنک کے ذریعہ شرکت کی۔ امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق معاہدے کو ’تاریخی‘ اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے روم میں جی-20 سمٹ کی سائیڈ لائن میں کہا کہ آج جی-20 ممالک کے سربراہان مملکت نے نئے بین الاقوامی ٹیکس قوانین پر ایک تاریخی معاہدے کی توثیق کی، جس میں کم از کم عالمی ٹیکس شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام یکطرفہ کارپوریٹ ٹیکس لگانے کی نقصان دہ دوڑ کو ختم کر دے گا۔عالمی جی ڈی پی کے 90 فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرنے والے تقریباً 136 ممالک نے زیادہ منصفانہ ٹیکس ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ او ای سی ڈی کے ذریعہ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور عالمی کارپوریشنوں پر 15 فیصد کم از کم ٹیکس نافذ کیا ہے۔ امریکی انٹرنیٹ کمپنیاں مثلاً گوگل، امیزون، فیس بک اور ایپل نے ایسے مقامات یا ممالک کا رخ کیا جہاں انہیں ٹیکس کم سے کم دینا پڑے اور یہ ہی کمپنیاں نئے عالمی ضابطے کا خاص ہدف ہیں۔ علاوہ ازیں گلاسگو میں شروع ہونے والی اہم سی او پی 26 کانفرنس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلی پر اجتماعی عزم پر ابھی تک کوئی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا تھا۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے جمعہ کے روز رہنماؤں کو خبردار کیا کہ وہ ’مزید اقدام اور مزید کارروائی‘ کا مظاہرہ کریں اور آب و ہوا کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے عدم اعتماد 3پر قابو پالیں۔
جی -20 اجلاس کا اختتام ، 2023ء میں ہندوستان میں انعقاد
روم : جی-20 اجلاس کا اتوار کو اختتام عمل میں آیا۔ دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے قائدین نے بتایا کہ ان کی اگلی ملاقات 2022ء میں انڈونیشیا میں اور 2023ء میں ہندوستان میں ہوگی۔ ہندوستان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر دنیا کی نمائندگی کا سلسلہ جاری رکھے گا اور انسانیت کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ اعلامیہ میں اجلاس کی سفارشات اور مؤثر انتظامیہ کیلئے اٹلی انتظامیہ سے اظہارتشکر کیا گیا۔
اٹلی چاہتا ہے کہ G-20 ممالک عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے اقوام متحدہ کے ہدف کی اجتماعی طور پر توثیق کرے۔دوسری جانب G-20 کے متعدد اراکین بہت سے اقتصادی ترقی کے مختلف مراحل پر ہیں، 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو صفر تک کم کرنے کا نشانہ دیگر اہداف سے متضاد ہے۔امیر اور غریب ممالک کے درمیان کووڈ 19 -19 ویکسین کی رسائی کے وسیع خلا کو دور کرنے کے لیے کسی نئے وعدے کی توقع نہیں ہے۔لیکن سمٹ کے میزبان، اطالوی وزیراعظم ماریو ڈراگھی نے کہا کہ G-20 ممالک کو 2022 کے وسط تک عالمی آبادی کے 70 فیصد کو ویکسینٹڈ کرنے کے ڈبلیو ایچ او کے نشانہ کو پورا کرنے کے لیے ’ہم سب کچھ کر سکتے ہیں‘۔ذرائع کے مطابق جس نے سربراہی اجلاس کی بات چیت میں حصہ لیا ’تمام رہنماؤں‘ نے اس ہدف کو حاصل کرنے پر اتفاق کیا۔