روش کمار
وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیرونی دوروں کے شوقین ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی اور دوسری میعاد کے دوران جی بھر کر بیرونی دورے کئے۔ تیسری میعاد میں اگرچہ انہوں نے کئی ملکوں کے دورے کئے تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ وہ عالمی پلیٹ فارمس سے غائب ہوگئے ہیں اور خاص طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جب سے ہندوستان پر50 فیصد ٹیرف عائد کیا وزیراعظم پر جیسے خاموشی طاری ہوگئی۔ وہ عالمی سطح پر عالمی مسائل بالخصوص دنیا کو درپیش سنگین مسائل پر کچھ بولنے سے قاصر ہیں ورنہ وہ ہر ضروری اور غیرضروری مسئلہ پر اپنی رائے دینا ضروری سمجھا کرتے تھے۔ جس اصلی عالمی پلیٹ فارم پر انہیں موجود رہنا چاہئے دنیا میں ہورہی بڑی بڑی تبدیلیوں اور رونما ہورہے واقعات پر اظہارخیال کرنا چاہئے اس سے دور وہ ایک دوسرے قسم کے عالمی ایونٹ میں حصہ لیتے ہوئے نظر آئے۔ ورلڈ کپ میں کیا ہورہا ہے اس پر چپ ہیں مگر آسام میں منعقدہ پروگرام کو وزارت خارجہ ضرور ٹوئیٹ کررہا ہے۔ ہندوستانی عوام کو پوچھنا چاہئے کہ یہ سب تو ٹھیک ہے اچھا ہے لیکن ہر وقت بیرونی دوروں پر نکل جانے والے اربوں روپئے خرچ کرنے والے پارلیمانی اجلاس کے دوران بیرونی دورے کرنے والے وزیراعظم مودی دنیا کے واقعات پر کیوں نہیں کچھ کہہ پارہے ہیں۔ بنگال میں ٹرین کو سبز جھنڈی دکھا کر روانہ ہورہے ہیں وہاں خطاب کررہے ہیں۔ ریاست کی ممتابنرجی حکومت پر دراندازی بڑھانے کے سنگین الزامات عائد کررہے ہیں جبکہ دراندازی روکنے کی ذمہ داری ان ہی کی حکومت کی ہے۔ انہیں اس بات کا جواب دینے کی فکر تک نہیں ہے کہ ممتابنرجی حکومت کا کونسا عہدیدار بنگلہ دیشی شہریوں کو لاکر یہاں بسارہا ہے؟ سرحد پر کس کی فوج، کس کی طاقت اور کس کی ایجنسی تعینات ہے۔ وہ سب کیا کررہے ہیں۔ بنگال اور آسام میں سرحد کی سیاست کرتے ہیں یعنی انٹرنیشنل پالیٹکس (عالمی سیاست) کررہے ہیں مگر جو اصل میں عالمی سیاست ہے اس پر کچھ نہیں کہہ پارہے ہیں خود عالمی پلیٹ فارم سے غائب ہیں اور دنیا میں آسام کی پہچان بنانے کے ایونٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ وہاں خطاب میں مودی کا کہنا تھا ’’میری ہمیشہ خواہش رہتی ہے کہ آسام کے فن اور ثقافت کو بڑا پلیٹ فارم ملے۔ بڑے پروگرامس اس کے ذریعہ اس کی پہچان ملک و بیرون ملک بڑھے، ٹرمپ کے آنے تک انڈیا کے اخبارات میں ہندی چینلوں میں دنیا بھر میں ایک ہی لیڈر یا رہنما دکھائی دے رہا تھا، وہ تھے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی لیکن جب سے ٹرمپ نے بولنا اور ایکشن لینا شروع کیا ہے۔ وزیراعظم کا عالمی پلیٹ فارم پر دکھائی دینا مشکل ہوگیا ہے۔ کیا انڈیا، ایران کے ساتھ چاہ بہار پراجکٹ سے اپنا دعویٰ چھوڑ دے گا۔ الیکشن کے وقت انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں چل رہا چابہار پراجکٹ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آج جب اس پراجکٹ کے مستقبل پر سوال ہے تو وزیراعظم مودی کا ایک بیان تک نہیں آتا۔ اس قدر بڑے بڑے عالمی مسائل و تنازعات پر وزیراعظم مودی کیوں نہیں کچھ کہہ پارہے ہیں۔ جس چاہ بہار پراجکٹ کو وہ اپنا بڑا کام بتاتے تھے اسے لیکر تو انہیں کچھ تو کہنا چاہئے۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ انڈیا کے وزیراعظم مودی جی کی اس پر کیا رائے ہے؟ گزشتہ ہفتہ خبریں چلنے لگیں کہ امریکہ کے دباؤ میں انڈیا چا بہار بندرگاہ پراجکٹ سے نکلنے جارہا ہے۔ پہلے تو سرکاری ذرائع کے ذریعہ صفائی دینے کی کوشش کی گئی کہ ایسی بات نہیں۔ انڈیا اور ایران کئی باہمی اور اہم معاملوں پر ایک دوسرے سے بات چیت کررہے ہیں۔ اکٹوبر 2025ء میں امریکہ نے انڈیا کو 6 ماہ کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اس دوران چابہار سے متعلق انڈیا پر ایران کے ساتھ تجارت کرنے پر ٹیرف عائد نہیں ہوگی۔ 18 جنوری کو اکنامک ٹائمس کے پی منوج نے رپورٹ کیا کہ انڈیا کو یہ چھوٹ اس لئے دی گئی کیونکہ یہ وعدہ کیا گیا کہ6 ماہ میں انڈیا چابہار پراجکٹ سے باہر آجائے گا۔ جب ان خبروں کو لیکر وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ملی چھوٹ اپریل تک جاری رہے گی۔ اس دوران امریکہ سے بات چیت ہوتی رہے گی۔ آخر انڈیا نے صاف صاف کیوں نہیں کہا کہ انڈیا چابہار پراجکٹ سے نہیں نکلے گا، اس کے اپنے مفادات جڑے ہیں۔ کیا انڈیا اپنے مفادات کا فیصلہ 6 ماہ امریکہ سے پوچھ کر کرے گا۔
اب چلتے ہیں ایس آئی آر کی طرف 6 جنوری کو یو پی کا پہلا ایس آئی آر ڈرافٹ جاری ہوا۔ 18.70 فیصد رائے دہندوں کے نام حذف ہوگئے یہ تعداد ہوتی ہے 2.89 کروڑ لوگوں کے فارمس نہیں ملے یہ Deletion نہیں ہے ڈیلیشن وہ ہوتا ہے جب آپ نے فارم بھرے اس میں خامیاں پائی گئیں یا الیکشن کمیشن کی طئے کئے گئے زمرہ کے حساب سے آپ کی تفصیلات صحیح نہیں ملی۔ اس کے بعد سماعت ہوتی ہے جب ڈیلیشن ہوتا ہے تب آپ کو نام شامل کروانے کا حق دیا جاتا ہے اپیل کا حق ملتا ہے جن 2.89 کروڑ لوگوں کے نام خارج نہیں پر کرنے کی وجہ سے سیدھے سیدھے فہرست سے باہر ہوگئے ان کے پاس ایسا کوئی حق یا اختیار نہیں ہوتا بس وہ ایک ہی کام کرسکتے ہیں نئے ووٹر کی شکل میں نام شامل کروانے کیلئے فارم 6 پُر کرسکتے ہیں۔ مگر ہوسکتا ہے تب انہیں جھوٹ کہنا پڑے فارم 6 تو ان کیلئے ہوتا ہے جو پہلی بار ووٹر بننے کیلئے بھرتے ہیں جن لوگوں نے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں ووٹ استعمال کیا اور رائے دہی میں حصہ لیتے رہے ہیں انہیں فارم 6 کیوں پُر کرنا چاہئے۔ ووٹر بننے کیلئے کیا وہ جھوٹ بولیں گے کیا۔ 2.89 کروڑ لوگ فارم 6 بھر پائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ متوفی ہیں کچھ نے ٹھکانہ بدل لیا اور کچھ ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل ہوگئے مگر ان میں سے کچھ ہزار بھی حقیقی ووٹرس ہیں کچھ لاکھ بھی حقیقی ووٹرس ہیں تو کیا وہ فارم 6 بھر پائیں گے۔ صرف یو پی سے 2.89 کروڑ لوگوں کے نام حذف ہوئے ہیں اگر آپ نے چوکسی اختیار نہیں کی تو یہ تعداد 6 کروڑ کے آس پاس بھی جاسکتی ہے۔ 6 کروڑ ایک اندازہ ہے لیکن 2.89 کروڑ اندازہ نہیں یہ وہ تعداد ہے جو فہرست رائے دہندگان سے حذف ہوچکی ہے۔ کیا یہ تعداد اتنی چھوٹی ہے کہ اس پر بات نہ کی جائے جتنا چوکس ہونا چاہئے کیا آپ چوکس ہیں۔ سیاسی جماعتیں چوکس ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں چوکس ہیں؟ ایس آئی آر پر آپ بات کیوں نہیں کررہے ہیں۔ ایس آئی آر پلے نہیں پڑتا۔ ایس آئی آر سے ڈر لگتا ہے۔ ایس آئی آر سے ٹھنڈ لگتی ہے۔ کپکپاہٹ طاری ہوتی ہے یا برف کی طرح ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ وہ مسئلہ نہیں ہے ایس آئی آر میں نام نہیں ہوگا تو کیا ہوجائے گا ایس آئی آر کا پتہ نہیں چلتا۔ کبھی اتنے کروڑ کے نام حذف ہوجاتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ اتنے کروڑ کے نام جوڑ دیئے گئے ہیں۔ یہ فارم بھرو وہ فارم لاو یہ دستاویز جمع کرو آدھار چلے گا نہیں چلے گا، پاسپورٹ کیوں مانگ رہا ہے دماغ خراب ہورہا ہے۔ دسویں بورڈ کا سرٹیفکیٹ کیوں نہیں مانگ رہا ہے اس میں کیا مسئلہ ہے؟ سوال اتنے سارے ہیں کہ لوگوں کو بہانہ مل جاتا ہے کہ دماغ الجھ جاتا ہے۔ چھوڑو ہٹاو ایس آئی آر، کو، ایس آئی آر کو سمجھنا ایکدم آسان ہے۔ 15 کروڑ 47 لاکھ ووٹرس سے 2.89 کروڑ رائے دہندوں کے نام رائے دہندوں کی مسودہ فہرست میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ ان کا فارم کسی وجہ سے بی ایل او کو نہیں ملا اور باہر ہوگیا اسے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے۔ یوپی کی بات ہم کررہے ہیں شروع سے کرتے ہیں۔ بات گزشتہ سال کی ہے 2025ء کی ہائیکورٹ کا حکم آیا پنچایتوں کی ووٹر لسٹ پر نظرثانی کی جائے۔ پنچایتوں اور دوسرے ادارے کے الیکشن کیلئے ریاستوں میں الیکشن کمیشن ہوتے ہیں جنہیں آپ ریاستی الیکشن کمیشن کہتے ہیں جنہیں اسٹیٹ الیکشن کمیشن کہتے ہیں۔ ریاستی الیکشن کمیشن اس چناؤ آیوگ سے الگ ہوتا ہے جس کا دفتر دہلی میں ہے اور جس کو ریاستوں میں سی ای او یا چیف الیکشن آفیسر کہتے ہیں تو پنچایتوں کی فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کی گئی جولائی سے لیکر ڈسمبر 2025ء کے درمیان SIR کیا گیا نومبر اور ڈسمبر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا یو پی میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں کام آنے والی فہرست رائے دہندگان کا ریویژن کرتا ہے SIR کرتا ہے ایک ہی وقت میں یوپی میں دو ، دو فہرست رائے دہندگان اپ ڈیٹ ہورہی تھی۔ پنچایتوں کا ووٹر لسٹ اور لوک سبھا و اسمبلی کا ووٹرلسٹ اپ ڈیٹ کیا جارہا تھا۔ ایک ساتھ میں دو فہرست رائے دہندگان نئی بنادی گئی تو اس سے کیا نتیجہ برآمد ہوا اور ایس آئی آر کے معاملہ میں اس کی مثال کیوں دی جارہی ہے۔ یوپی میں متوازی طور پر دو دو فہرست رائے دہندگان تیار کی گئی یہ ملک میں اسمبلی اور پنچایتوں کی فہرست الگ ہی ہوتی ہے اس میں کچھ بھی غلط نہیں لیکن آدمی یا ووٹر تو اتنے ہی ہوں گے تو ہوا کیا الیکشن کمیشن آف انڈیا کی لسٹ میں اترپردیش میں 15 کروڑ 44 لاکھ ووٹر تھے ایس آئی آر سے پہلے SIR شروع ہوا۔ 6 جنوری کو پہلا مسودہ آگیا اس کے مطابق رائے دہندوں کی تعداد 12.56 کروڑ ہوگئی لیکن پنچایتوں کی فہرست بالکل مختلف ہے۔