عالمی مشترکہ چیالنجس سے نمٹنے حیدرآباد۔یو ایس کی مشترکہ کاوشیں

   

سمپوزیم سے امریکی سینیٹرس کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہرین کا خطاب

حیدرآباد۔ 8 فروری (راست) الینوائے اسٹیٹ سینیٹر لورا مرفی نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اور بامعنی پیش رفت نئے حل ایجاد کرنے کے بجائے اُن رکاوٹوں کو دور کرنے سے ممکن ہے جو آزمودہ اور مؤثر خیالات کے نفاذ میں حائل ہیں۔ وہ تاریخی نظام کلب میں منعقد ہونے والے یو ایس اے۔حیدرآباد سمپوزیم بعنوان’’ بریجس آف اینو ویشن ۔ٹیکنالوجی اینڈ انٹر فیتھ پارٹنر شپ‘‘سے خطاب کر رہی تھیں، جس کا مشترکہ انعقاد سی ایم ایم اے، ڈبلیو ڈبلیو ایم آئی، یونیورسٹی آف فلوریڈا اور میڈیا پلس فاؤنڈیشن نے کیا۔ اپنے پہلے دورۂ ہند کو یادگار اور نہایت مفید قرار دیتے ہوئے سینیٹر مرفی نے ملک کی گرمجوشی، ثقافت اور مہمان نوازی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے نے عالمی تبادلے اور اقوام کے درمیان باہمی احترام کی اہمیت پر ان کے یقین کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے الینوائے میں عوامی کتب خانوں کے کردار کو مساوات کا طاقتور ذریعہ بتایا جو آمدنی یا پس منظر سے قطع نظر علم تک رسائی یقینی بناتے ہیں، اور کتابوں پر قدغن اور مطالعے کی آزادی محدود کرنے کی بڑھتی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ تارکینِ وطن کی بدولت مضبوط ہوا ہے جو اپنے ساتھ خیالات، عزم اور محنت لائے، اور بتایا کہ بھارت نے بالخصوص جنوبی ایشیائی برادری کے باصلاحیت، اختراعی اور پُرعزم افراد کے ذریعے امریکہ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اپنی قانون سازی کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے انہوں نے صحت اور انسانی خدمات، ماحولیاتی تحفظ و آبی معیار، اور خواتین ،کمزور طبقات کے لیے مساوات کو مستقل توجہ اور پائیدار سیاسی عزم کا تقاضا قرار دیا۔سی ایم ایم اے کے صدر اور انسائٹ ہاسپٹل، شکاگو کے چیف آف آنکولوجی ڈاکٹر تجمل حسین نے سرحدوں کے پار پیشہ ورانہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ سائنسی منصوبہ بندی اور انجینئرنگ پر مبنی اقدامات سے سیلابی خطرات میں کمی اور طویل المدتی آبی نظم بہتر بنایا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت اور صحت کے موضوع پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے ہندوستانی نژاد امریکی اے آئی ہیلتھ کیئر ماہر ڈاکٹر سری کانت مہانکالی نے کہا کہ تیز رفتار جدّت کے اس دور میں حکمرانی کو ایسا پل بننا چاہیے جو ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ وسعت دینے میں مدد دے۔انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں 60 فیصد افراد صحت کے شعبے میں اے آئی کے مقابلے انسانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے قبل یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر ایچ سندھو نے پیچیدہ صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے انسان، رہائش اور ماحول کو جوڑنے والے کثیر الشعبہ عوامی صحت کے نقطۂ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔مساح کنسٹرکشن کے چیئرمین انجینئر ایم اے نعیم نے کہا کہ دیانت، محنت اور لگن ہی وہ بنیادیں ہیں جو مشترکہ وژن کی کامیابی کے لیے مضبوط پل تعمیر کرتی ہیں۔ اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے واٹر اینڈ ویسٹ مینجمنٹ انٹرنیشنل (ڈبلیو ڈبلیو ایم آئی) کے صدر سام پپو نے سیوریج ٹریٹمنٹ، جھیلوں کی بحالی، اسٹارم واٹر مینجمنٹ اور سیلاب سے بچاؤ میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت بیان کی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایم آئی کے نائب صدر خواجہ محی الدین اور سینئر معمار امیرا اشرف او’نیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سمپوزیم کی نظامت میڈیا پلس کے سی ای او سید خالد شہباز نے کی۔