عالم اسلام میں احتجاج کا اثر ،سویڈن نے قرآنِ کریم کیبے حرمتی کوجرم قرار دینے پر غور شروع کر دیا

,

   

اسٹاکہوم : سویڈن حکومت نے قرآن پاک کی بے حرمتی کو غیر قانونی قرار دینے پر غور شروع کردیاہے۔ سویڈن کے وزیرانصاف کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات سے سویڈن کی داخلی سلامتی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔قرآنِ کریم کی بے حرمتی کے واقعے کے خلاف عالمگیر سطح پر احتجاج کیے جانے کے بعد سویڈن نے قرآن کریم اور دیگر مقدس صحیفوں کی بے حرمتی کو جرم قرار دینے پر غور شروع کر دیا۔ وزیر انصاف گونار اسٹرومر کے مطابق قرآنِ پاک کی بے حرمتی کے حالیہ واقعے نے سویڈن کی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سویڈن کی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا وہ قرآنِ پاک یا دیگر مقدس کتابوں کی بے حرمتی کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والے کا مقصد کیا تھا؟

دبئی: سویڈن میں عیدالاضحی کے موقع پر ایک مسجد کے باہر عراقی مہاجر سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن کا نسخہ جلانے کے بعد جہاں معاملہ شہ سرخیوں میں آیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر پر مختلف ردعمل میں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ غیرمسلموں نے بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کیلئے اور بھی راستے تھے اور مذہبی علامتوں کا تقدس برقرار رکھا جانا چاہیے۔ مومیکا کا اقدام جہاں سویڈن کیلئے سفارتی محاذ پر مشکلات کا باعث بنا وہیں اسے سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔بعدازاں معلوم ہوا کہ مومیکا کی جانب سے حکام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس کے مہاجر کے اسٹیٹس کو بڑھایا اور اسے شہریت دی جائے۔اب جبکہ یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں حقیقت پر مبنی ہیں، مومیکا کے ماضی، نظریات اور محرکات کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔28 جون کو مومیکا نے ا سٹاکہوم میں مسجد کے سامنے کہ قرآن کے صفحات پھاڑے اور جلائے جب اس وقت وہاں پولیس بھی موجود تھی اور اس کے دوست نے ان مناظر کو فلمایا ۔اس موقع پر مومیکا نے چیختے ہوئے کہا کہ ’’میں اس کتاب سے سویڈن کی حفاظت کا خواہاں ہوں جو کہ ملک کیلئے خطرہ ہے‘‘۔تاہم کچھ ہی عرصہ پیشتر یہی خودساختہ ’لبرل‘ عراق کے ایک بدنام زمانہ انتہاپسند مذہبی گروپ ’امام علی بریگیڈ‘ جو عراق اسلامک موومنٹ کا مسلح ونگ ہے، اس سے وفاداری کا عہد کر رہا تھا۔اس نے داعش کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم عزت کے ساتھ زندہ رہتے یا حوصلے کے ساتھ مرتے ہیں۔اور اب مومیکا کا دعویٰ ہے کہ مسلمان اپنے ملکوں سے شریعت کی حکمرانی کے باعث ہجرت کر رہے ہیں۔’وہ اپنے ملکوں سے یہاں آ کر شرعی قانون کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں۔وہ یہاں تحفظ، امن، عزت، جمہوریت کیلئے آتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ وہ اپنا شرعی قانون یہاں لاگو کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔اسی طرح ایک اور موقع پر مومیکا نے اعلان کیا کہ وہ عراق کے شیعہ مذہبی و سیاسی رہنما مقتدا ال صدر پر مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ،کیونکہ وہ لوگوں کو اس کے قتل پر اکسا رہے ہیں۔