عامر شکیل کی تیسری مرتبہ کامیابی یقینی، بی آر ایس کی ہیٹ ٹرک ہوگی: کے سی آر

   

بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کو معاف ناکریں، کانگریس نے اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک بنایا
مستقبل میں میناریٹی آئی ٹی سیکٹرس تشکیل دیئے جائیں گے، چار انتخابی جلسوں سے چیف منسٹر کا خطاب

حیدرآباد۔ 15 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے عامر شکیل کو عوامی خدمت گذار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد شہید کرنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کرنا چاہئے۔ کانگریس کی داستان فسادات اور کرفیو سے بھری پڑی ہے۔ بی آر ایس کا دور حکومت ہندو۔ مسلم اتحاد کا سنہرا دور ہے جہاں کی گنگا جمنی تہذیب مثالی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج اسمبلی حلقہ جات بودھن۔ نظام آباد یلاریڈی اور میدک میں منعقدہ بی آر ایس عوامی آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ سدرشن ریڈی نے ماضی میں وزیر رہنے کے باوجود اسمبلی حلقہ بودھن کی ترقی کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ عام شکیل وزیر نا رہنے کے باوجود ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے جو کام کئے ہیں وہ ناقابل فراموش ہے۔ عوام کے درمیان رہنے والوں کو کامیاب بنانا عوام کی ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہیکہ تیسری مرتبہ عامر شکیل بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے اور تیسری مرتبہ ریاست میں بی آر ایس حکومت تشکیل پائے گی۔ اسمبلی حلقہ بودھن کو ترقی دینا میری ذمہ داری ہے۔ عوام عامر شکیل کو 50 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ چیف منسٹر نے اسمبلی حلقہ نظام آباد اربن میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد میں مسلمانوں کے ووٹوں کا فیصلہ کن موقف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بابری مسجد کا انہدام جس نے کیا اُس کو ہرگز فراموش نہ کریں۔ نظام آباد میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں 9 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ہیں۔ مستقبل میں حکومت میناریٹی آئی ٹی سیکٹرس بھی قائم کئے جائیں گے۔ تلنگانہ میں ہندو ۔ مسلم بھائی چارہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے دھوکہ دیا ہے۔ تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج منظور نہیں کیا گیا۔ ایسی بی جے پی کو ایک بھی ووٹ کیوں دیا جائے۔ کانگریس کی ساری داستان فسادات اور کرفیو سے بھری پڑی ہے۔ کانگریس نے اقلیتوں کو ہمیشہ ووٹ بینک کی طرح دیکھا ہے۔ ان کی ترقی اور بہبود کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جبکہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر 12 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ 10 سال کے دوران تلنگانہ پوری طرح پر امن رہا ہے۔ تلنگانہ میں ہر طرف خوشحالی ہے۔ لا اینڈ آرڈر کو بگاڑنے والوں کو آہنی پنجہ سے کچل دیا جارہا ہے۔ تلنگانہ کی ترقی غریب عوام کی فلاح و بہبود سارے ملک کے لئے مثالی ہے۔ ریاست کا کوئی ایسا گھر نہیں ہے جس کو فلاحی اسکیمات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہو۔ لہذا عوام انتخابات میں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔ کام کرنے والی بی آر ایس کو ووٹ دیتے ہوئے آشیرواد دیں تاکہ مزید جوش و خروش کے ساتھ کام کیا جاسکے۔ کانگریس اور بی جے پی کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو 5 سال سزا بھگتنا پڑے گا۔ کانگریس نے تلنگانہ کو زبردستی آندھراپردیش میں ضم کیا اور تلنگانہ کو علیحدہ ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے کئی قربانیاں دینی پڑیں۔ ریاست کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دے گی اور کوئی بھی سیاسی طاقت اس کے بڑھتے قدم کو نہیں روک پائے گی۔ انہوں نے بی آر ایس اقتدار میں عوام کیلئے مزید سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ ن