تلنگانہ کی سیاسی صورتحال ، پارٹی کی تنظیم جدید ، اقلیتی اُمور پر تفصیلی گفتگو، اقلیتوں کو کانگریس سے قریب کرنے کا عزم
حیدرآباد۔ 23 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے ایم ایل سی عامر علی خان نے آج گاندھی بھون، نامپلی میں اے آئی سی سی کے انچارج میناکشی نٹراجن سے ملاقات کی اور ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال، پارٹی کی تنظیم جدید، اقلیتی اُمور کے علاوہ پارٹی کی اقلیتوں تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے اہم تجاویز پیش کیں۔ یہ ملاقات تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی تنظیم نو کی کوششوں کے ایک حصہ کے ایک حصہ کے طور پر ہوئی جس کا مقصد گاؤں سے ضلع کی سطح تک پارٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ عامر علی خان نے کہا کہ پارٹی کو تنظیمی سطح پر مضبوط بنانے کیلئے سماج کے تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کو دیہی علاقوں سے ریاستی سطح تک شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ایک جامع تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہئے جو تلنگانہ کی سماجی اور علاقائی ترقی کی عکاسی کرے۔ عامر علی خان نے اقلیتوں کی بہبود کیلئے کانگریس کی پالیسیوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جاریہ مالیاتی سال 2025-26ء کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 3,591 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کی خاطر خودروزگار اسکیم ’’راجیو یووا وکاسم‘‘ کیلئے 840 کروڑ روپئے مختص کرنے کو اقلیتوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں گیم چینجر قرار دیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کو ان اسکیموں کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں تک پہنچانا چاہئے تاکہ اہل افراد اس سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکیں۔ آج صبح اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن نے گاندھی بھون میں ایک اجلاس میں شرکت کی۔ پارٹی کے مبصرین کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کے تین مرحلوں میں تنظیم جدید کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے اس اجلاس کی صدارت کی اور اعلان کیا کہ 25 سے 30 اپریل کے درمیان ضلع سطح کے اجلاس منعقد کئے جائیں گے۔ اس کے بعد بلاک اور منڈل سطح کے اجلاس منعقد ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل، اسمبلی حلقوں کے انچارج، اے آئی سی سی اور پی سی سی کے عہدیدار شرکت کریں گے۔ عامر علی خان نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سطح پر پارٹی کو مضبوط کرنے سے ہی ریاستی سطح پر پارٹی مستحکم و مضبوط ہوگی۔ انہوں نے تنظیم سازی کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور یقین دلایا کہ وہ اقلیتوں کو پارٹی کے مزید قریب لانے کیلئے سخت محنت کریں گے۔2