عام آدمی سے ٹریفک چالانات کی وصولی لیکن بلدی عہدیداروں کو کھلی چھوٹ

   

ہزاروں روپئے کے چالانات کئی برسوں سے زیر التواء ، تیز رفتار ڈرائیونگ اور ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی
حیدرآباد۔/22 فروری، ( سیاست نیوز) ٹریفک پولیس کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کے ای چالان کی تکمیل کیلئے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے جس کے تحت چالانات کی عدم ادائیگی پر گاڑیوں کو ضبط کیا جاتا ہے لیکن گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کئی سینئر عہدیدار ایسے ہیں جن کی گاڑیوں پر چالانات کئی برسوں سے ادائیگی کے منتظر ہیں لیکن عہدیداروں کے خلاف ٹریفک پولیس کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ عام آدمی اور عہدیداروں میں فرق کے نتیجہ میں ٹریفک پولیس کا دوہرا معیار منظر عام پر آیا ہے۔ پولیس کی ای چالان ویب سائیٹ سے اس بات کا پتہ چلا کہ جی ایچ ایم سی کے بعض عہدیدار ہزاروں روپئے بطور چالان باقی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے انفورسمنٹ ڈائرکٹر کی کار پر 14 چالانات پینڈنگ ہیں جس کی جملہ رقم 13790 ہے اور سب سے قدیم چالان 11 ستمبر 2018 کا ہے۔ چالانات میں 11 تیز رفتار ڈرائیونگ، خطرناک ڈرائیونگ کے ہیں جبکہ 2 رانگ سائیڈ ڈرائیونگ کے چالانات ہیں۔ بلدیہ کی ایک اور گاڑی جو ایڈیشنل کمشنر ایڈمنسٹریشن کو الاٹ کی گئی اس پر 16300 روپئے کے 20 چالانات پینڈنگ ہیں اور سب سے پرانا چالان 31 اگسٹ 2018 کا ہے۔ 20 میں سے 14 چالانات تیز رفتار ڈرائیونگ کے ہیں جبکہ 5 سگنل توڑنے اور ایک لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ پانچ سال سے زائد عرصہ کے چالانات پینڈنگ ہونے پر ٹریفک پولیس لیگل نوٹس جاری کررہی ہے لیکن جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے ساتھ نرمی کا رویہ باعث حیرت ہے۔ جی ایچ ایم سی میں او ایس ڈی کی جانب سے استعمال کی جارہی کار پر 22 چالانات ہیں جس کی رقم 9770 روپئے ہے۔ سب سے پرانا چالان 2012 کا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے پاس 660 گاڑیاں ہیں جن میں ایک فارچونر، 25 انووا، 24 اسکارپیو اور 60 دیگر گاڑیاں ہیں۔ عہدیداروں کو جی ایچ ایم سی کے حدود میں گاڑیوں کے استعمال کی اجازت ہے لیکن کئی گاڑیوں کو جی ایچ ایم سی حدود کے باہر ای چالان کیا گیا جن میں جڑچرلہ اور گجویل جیسے مقامات شامل ہیں۔ اکٹوبر 2021 میں وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے ان کی گاڑی کو چالان کرنے والے سب انسپکٹر کو تہنیت پیش کی تھی۔ ر