عام آدمی نے مسلمان، پاکستان اور ہندوتوا کے جملے بازوں کو شکست دی

,

   

Ferty9 Clinic

اروند کجریوال کی جھاڑو سے فرقہ پرستی کے کچرے کا صفایا، عام آدمی پارٹی کو 62 نشستیں ‘ بی جے پی کو محض 8 پر جیت ، آج نو منتخب ارکان اسمبلی کا اجلاس

نئی دہلی 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ عام آدمی کے ہاتھوں مسلمان، پاکستان اور ہندوتوا کے جملے بازوں کو کراری شکست ہوئی ہے۔ کجریوال کی جھاڑو سے دہلی میں فرقہ پرستی کے کچرے کا صفایا ہوگیا۔ انتخابات خاص طور پر بی جے پی کیلئے وقار کا مسئلہ بن گئے تھے۔ وزیر اعظم مودی و وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ بی جے پی کے چیف منسٹرس، سینکڑوں ایم پیز اور سرکردہ قائدین نے دہلی کے چپہ چپہ میں پارٹی کیلئے انتخابی مہم چلائی اور ووٹرس کو راغب کرنے پارٹی کی طاقت جھونک دی تھی لیکن دہلی کے باشعور عوام نے نفرت و تقسیم کی سیاست کے برخلاف ترقی کو ووٹ دیا۔ 70 رکنی دہلی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کو 62 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ بی جے پی نے محض 8 حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ کانگریس کھاتہ بھی نہ کھول سکی۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو شکست ہوئی تھی تاہم صرف آٹھ ماہ بعد اسمبلی انتخابات میں اس نے شاندار جیت درج کی ۔ عام آدمی پارٹی کے جن اہم قائدین نے شاندار جیت حاصل کی ان میں پارٹی سربراہ اروند کجریوال، ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا، راگھو چڈھا، آتشی و دیگر شامل ہیں۔ کابینی وزراء میں گوپال رائے، ستیندر جین شامل ہیں۔ چیف منسٹر کجریوال نے نئی دہلی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کے حریف سنیل کمار یادو کو شکست دی۔ دہلی میں انتخابات ایسے وقت ہوئے جب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے بشمول ملک کے بیشتر حصوں میں احتجاج جاری ہے۔ بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران اس مسئلہ کو بہت اُٹھایا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کی نفرت و تقسیم کی سیاست کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی نے قومی سلامتی کے مسئلہ پر بھی آواز اُٹھائی جبکہ عام آدمی پارٹی نے صرف ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کی اور تعلیم، صحت کے علاوہ انفراسٹرکچر شعبوں میں اپنے کاموں کا تذکرہ کیا۔ عام آدمی پارٹی نے 2015 ء کے انتخابات میں بھی 67 نشستوں پر شاندار جیت حاصل کی تھی

اور دہلی سے بی جے پی اور کانگریس کا صفایا کردیا تھا۔ پارٹی ترجمان سنجے سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ پارٹی نے انتخابات میں ترقیاتی و فلاحی کاموں پر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور پارٹی کو کامیابی کی توقع بھی تھی۔ عام آدمی نے انتخابات میں پارٹی کی توقعات کو پورا کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہونے کی اُمید تھی کیوں کہ اب یہ پیغام عام ہوگیا تھا کہ ہندو ۔ مسلم سیاست چلنے والی نہیں ہے۔ اپنی جیت کے بعد منیش سیسوڈیا نے کہاکہ بی جے پی نفرت کی سیاست کررہی تھی لیکن عوام نے اس کے ایجنڈے کو مسترد کردیا۔ سیسوڈیا نے کہاکہ عوام نے ایسی حکومت کا انتخاب کیا ہے جو ان کیلئے کام کرتی ہے۔ عوام نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ قومیت کے حقیقی معنوں کی وضاحت کردی ہے۔ عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر کو جیت کے جشن کیلئے نیلے و سفید غباروں سے سجایا گیا تھا اور کجریوال کی بڑی تصویر کے ساتھ بیانر لگایا گیا تھا۔ آج صبح ووٹوں کی گنتی کیلئے گیارہ اضلاع میں 21 مراکز قائم کئے گئے تھے۔ 70 رکنی اسمبلی کیلئے میدان میں 672 امیدوار تھے جن میں 593 مرد اور 79 خواتین شامل تھے۔ عام آدمی پارٹی کیلئے مہم چلانے والوں میں کجریوال نمایاں تھے جبکہ بی جے پی کیلئے وزیراعظم مودی، امیت شاہ، یو پی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور دیگر شامل تھے۔ بی جے پی قائدین انوراگ ٹھاکر و پرویش ورما نے مہم کے دوران متنازعہ بیانات دیئے جس پر دونوں پر الیکشن کمیشن نے پابندی عائد کی تھی۔ کانگریس نے انتخابی مہم کا تاخیر سے آغاز کیا تھا جس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے علاوہ راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور دوسروں نے حصہ لیا تھا۔ بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر پر جشن کا ماحول تھا۔جیت کا جشن منانے روڈ شوز کا بھی اہتمام کیا گیا جن میں عوام کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ سہ پہر اروند کجریوال اپنی اہلیہ کے ساتھ ہیڈکوارٹر پہنچے اور بھاری جیت کیلئے دہلی کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انتخابی مہم کے دوران ہنومان مندر کے درشن کرنے کو بھی بی جے پی نے مسئلہ بنایا تھا تاہم کجریوال نے پارٹی کی کامیابی کے بعد ہنومان مندر کے درشن کئے۔ اس دران رات دیر گئے موصولہ اطلاع کے بموجب عام آدمی پارٹی کی مقننہ پارٹی کا کل چہارشنبہ کو 11.30 بجے دن اجلاس منعقد ہوگا اور نو منتخب ارکان اسمبلی اپنے لیڈر کا انتخاب عمل میں لائیں گے ۔ سینئر لیڈر گوپال رائے نے بتایا کہ یہ اجلاس اروند کجریوال کی قیامگاہ پر منعقد ہوگا ۔ ایک اور پارٹی لیڈر نے بتایا کہ پارٹی حلف برداری کیلئے 14 اور 16 فبروری کی تواریخ پر غور کر رہی ہے ۔ 2013 اور 2015 میںکجریوال نے 14 فبروری کو حلف لیا تھا ۔

دہلی اسمبلی تحلیل کردی گئی
نئی دہلی 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) لیفٹننٹ گورنر دہلی انیل بائجل نے آج دہلی اسمبلی تحلیل کردی۔ گورنر نے دہلی کی چھٹی اسمبلی کو 11 فروری سے تحلیل کردیا کیونکہ 11 فروری کو ووٹوں کی گنتی کی گئی اور نتائج کا اعلان کردیا گیا۔