عبادت گاہوں کی تعمیر کا کابینہ کے اجلاس میں کوئی تذکرہ نہیں

   

کسی وزیر نے مسئلہ نہیں اٹھایا، چیف منسٹر کے سی آر دوسرے مقام پر تعمیر کے موقف پر مصر ، مسلمانوں کے جذبات نظر انداز
حیدرآباد : سکریٹریٹ کی دو مساجد کی شہادت پر تلنگانہ کے مسلمانوں میں بے چینی ہے لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو نئے سکریٹریٹ کامپلکس کی تعمیر میں دلچسپی ہے۔ چہارشنبہ کو کابینہ اجلاس میں نئے سکریٹریٹ کامپلکس پلان کو منظوری دی گئی۔ کابینہ نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں منہدم عبادت گاہوں کے مسئلہ کا جائزہ نہیں لیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کے پاس عوام کے مذہبی جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ وہ واستو کے مطابق نئے کامپلکس کی تعمیر کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں نئے سکریٹریٹ کے پلان کی تفصیلات سے وزراء کو واقف کرایا گیا۔ 7 منزلہ اس کامپلکس کے ہر فلور میں فراہم کی جارہی سہولتوں سے واقف کرایا گیا۔ اجلاس میں موجود آرکیٹکٹ و پلان کی تیاری میں اہم رول ادا کرنے والے افراد نے وزراء کو تفصیلات بتائیں جس کے بعد پلان کو منظوری دے دی گئی ۔ کامپلکس کے علاوہ اطراف میں عبادتگاہوں ، کمرشیل کامپلکس اور پٹرول پمپ کی تعمیر کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے سرسری وزراء کو واقف کرایا کہ کامپلکس کے بیرونی علاقہ میں عبادت گاہیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ سکریٹریٹ کے علاوہ اطراف کے افراد کو عبادت کا موقع ملے ۔ کسی وزیر کی جانب سے مساجد کی دوبارہ تعمیر کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا۔ جماعت اسلامی کے ریاستی امیر حامد محمد خاں نے اجلاس سے قبل تین وزراء سے فون پر بات کرنے اور ان کی جانب سے کابینہ میں مساجد کے مسئلہ کے زیر بحث لانے کے تیقن کا دعویٰ کیا تھا لیکن کابینہ کی روئیداد سے پتہ چلا ہے کہ تینوں وزراء میں سے کسی نے یہ مسئلہ نہیں اٹھایا۔ ویسے بھی کابینہ کے اجلاس میں چیف منسٹر کی مرضی کے بغیر کوئی وزیر اظہار خیال کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ذرائع کے مطابق عبادت گاہیں سکریٹریٹ کامپلکس سے فاصلہ پر ہونگی۔ موجودہ مسجد دفاتر معتمدی کی اراضی کامپلکس میں شامل ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ مسجد ہاشمی کی اراضی بھی تعمیرات کے تحت آسکتی ہے۔ لہذا موجودہ مقامات پر مساجد کی دوبارہ تعمیر کو سرکاری ذرائع خارج از امکان قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے کسی اور مقام پر بڑی مسجد تعمیر کرنے کا جو وعدہ کیا تھا ، آج بھی وہی وعدہ برقرار ہے اور چیف منسٹر کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ تلنگانہ کے مسلمان مساجد کی شہادت پر مغموم ہیں اور مسلم جماعتیں و تنظیمیں اس پر چیف منسٹر سے ملاقات کا وقت طلب کر رہی ہیں لیکن چیف منسٹر عبادت گاہوں کے مسئلہ پر موقف میں تبدیلی کیلئے تیار نہیں ۔ لہذا وہ مسلم نمائندوں سے ملاقات کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتے ۔ مسلمانوں میں پھیلی بے چینی سے کسی بھی وزیر نے کابینہ کو واقف نہیں کرایا۔ حالانکہ ہر ضلع میں مسلمانوں نے کسی نہ کسی انداز میں احتجاج منظم کیا ہے ۔ چیف منسٹر کو یقین ہے کہ مسلمان دوسرے مقام پر مسجد کی تعمیر کو قبول کرلیں گے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی تائید کرنے والی مقامی سیاسی جماعت اور یونائٹیڈ مسلم فورم کے ذمہ دار کس طرح مساجد کو اپنے موجودہ مقامات پر تعمیر کرانے میں کامیاب ہونگے۔ گزشتہ 6 برسوں سے ٹی آر ایس حکومت کی ہر موڑ پر تائید کرنے والے سیاسی و مذہبی قائدین پر عوام کی نظریں ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں کہ صرف بیان بازی کے بجائے کوئی احتجاجی لائحہ عمل طئے کیا جائے گا یا نہیں۔ عوام کا احساس ہے کہ اگر ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کے جذبات اور بے چینی کو نظرانداز کرے گی تو جنوری میں ہونے والے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور دیگر بلدیات کے انتخابات میں برسر اقتدار پارٹی کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔