سیف آباد پولیس اسٹیشن پر کانگریس کا احتجاج،جنرل ڈائری میں شکایت درج کرنے سے اتفاق
حیدرآباد : کانگریس پارٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سیف آباد پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج منظم کیا گیا تاکہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں دو مساجد اور ایک مندر کے انہدام کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے ۔ پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل کی قیادت میں یہ احتجاج کیا گیا ۔ پولیس اسٹیشن کے پاس اس وقت ہلکی کشیدگی پیدا ہوگئی جب عہدیداروں نے شکایت درج کرنے اور رسید دینے سے انکار کردیا۔ کانگریس قائد اور پولیس عہدیداروں میں بحث و تکرار ہوگئی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی شکایت پر ایف آئی آر درج کرے۔ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ نے ایک مقدمہ میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کو لازمی قرار دیا ہے۔ پولیس عہدیداروں کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی نقل حوالے کی گئی ۔ کافی بحث و تکرار کے بعد پولیس عہدیداروں نے شکایت کو جنرل ڈائری میں درج کرنے سے اتفاق کیا ۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عبداللہ سہیل نے کہا کہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں عبادت گاہوں کے غیر قانونی انہدام کے خلاف کانگریس قائدین ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عبادت گاہوں کی کمیٹیوں کو کسی نوٹس کے بغیر منہدم کردیا گیا۔ مساجد کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو کوئی نوٹس نہیں دی گئی۔ ایف آئی آر درج کرنے سے بچنے کیلئے پولیس شکایت وصول نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کا انہدام 1991 ایکٹ کی خلاف ورزی ہے جس میں عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ جس اراضی پر مساجد موجود تھے ، وہ حکومت کی ملکیت نہیں ہے۔ لہذا انہدام کے ذریعہ حکومت نے غیر مجاز داخلے کا ارتکاب کیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے 10 جولائی کو عبادت گاہوں کے انہدام کو محض اتفاقی قرار دیتے ہوئے معذرت خواہی کی تھی۔ انہوں نے نئی عبادت گاہوں کی تعمیر کا تیقن دیا تھا۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ اگر چیف منسٹر اپنے وعدہ میں سنجیدہ ہے تو انہیں موجودہ مقامات پر دوبارہ تعمیر کی ہدایت دینی چاہئے ۔ انہدام کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود سیف آباد پولیس اسٹیشن کے حکام ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گے۔ مسلمانوں کے لئے اسی مقام پر مساجد کی دوبارہ تعمیر کے علاوہ کوئی تیقن قابل قبول نہیں ہے۔