سی پی آئی قائد ڈاکٹر نارائنا کا ریمارک، سماجی فاصلے کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں
حیدرآباد 7 مئی (سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے عبادت گاہوں کو بند رکھتے ہوئے شراب کی دوکانات کو کھولنے پر سخت تنقید کی اور اِسے مرکز کی بی جے پی حکومت کا دیوالیہ پن قرار دیا۔ پارٹی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا، ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے شراب کی دوکانات کھولنے پر سخت تنقید کی۔ اُنھوں نے کہاکہ سماجی دوری برقرار رکھنے کے نام پر مساجد، منادر اور چرچیس کو بند رکھا گیا ہے جبکہ شراب کی دوکانات پر غیرمعمولی ہجوم کے نتیجہ میں سماجی دوری کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جس طرح شراب کی خریدی کے لیے لوگ جمع ہورہے ہیں اُس سے وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے نظریات پر چلنے والی مودی حکومت نے نشہ بندی کو فراموش کردیا ہے۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ شراب کی فروخت کے ذریعہ اپنی آمدنی میں اضافہ کریں۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ گزشتہ 45 دنوں تک لاک ڈاؤن کی پابندیوں پر عمل کرتے ہوئے قربانی دینے والے عوام کی محنتوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ شراب کے لیے قطاروں میں دولت مند نہیں بلکہ غریب دکھائی دے رہے ہیں جس کا مطلب صاف ہے کہ حکومت کی امدادی رقم کو شراب کی خریدی پر خرچ کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی نے اپنے قریبی افراد کو نئے برانڈ کی شراب تیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ آندھراپردیش میں چیف منسٹر کے قریبی افراد کی کمپنیوں کی شراب فروخت ہورہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر مندروں کو کھولا جاتا تو اُس سے آمدنی میں اضافہ ہوتا لیکن حکومت کو عوامی صحت کے تحفظ کے بجائے شراب سے آمدنی میں اضافہ کی فکر ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر نکتہ چینی کی اور اسے عوام پر مشکل حالات میں زائد بوجھ سے تعبیر کیا۔ اُنھوں نے اضافی قیمتوں سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کا اعلان کسی منصوبے کے بغیر کیا گیا جس کے نتیجہ میں لاکھوں غیر مقامی ورکرس آبائی مقامات واپسی کے لیے بے چین ہوگئے۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے وقت حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ورکرس کی منتقلی کا انتظام کرتی لیکن منصوبہ بندی کی کمی کا نتیجہ ہے کہ ورکرس بغاوت پر اُتر آئے اور حکومت کو اب خصوصی ٹرینوں کا انتظام کرنا پڑا۔ ورکرس کے لیے دوہرے مسائل پیدا ہوچکے ہیں کیوں کہ اُنھیں گاؤں میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
