عباس انصاری کی سزا پر روک، اسمبلی رکنیت بحال

   

نئی دہلی ۔ 20 اگست (ایجنسیز) الہ آباد ہائی کورٹ نے آج باہوبلی مختار انصاری کے بیٹے اور ماؤ کے ایم ایل اے عباس انصاری کو بڑی راحت دیتے ہوئے نفرت انگیز تقریر کیس میں دی گئی سزا پر روک لگا دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت بحال ہوگئی ہے اور ماؤ اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جسٹس سمیر جین نے یہ فیصلہ عباس انصاری کی نظرثانی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ نچلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف عباس کی اپیل زیر التوا ہے، اس لیے اپیل پر فیصلہ ہونے تک سزا پر عمل درآمد روکا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ عباس انصاری کو ماؤ کی خصوصی ایم پی؍ ایم ایل اے کورٹ نے نفرت انگیز تقریر کے معاملہ میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی افسران کو دھمکی دی تھی کہ اگر 2022 کے انتخابات کے بعد سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی تو سرکاری اہلکاروں کو نتائج بھگتنے ہوں گے۔ انہیں آئی پی سی کی دفعہ 153-A (فرقہ واریت کو ہوا دینا)، 189 (سرکاری ملازم کو نقصان پہنچانے کی دھمکی)، 506 (مجرمانہ دھمکی) اور 171-F (انتخابات پر اثرانداز ہونا) کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام سزائیں ایک ساتھ سنانے کا حکم دیا تھا اور ساتھ ہی دو ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔اس تقریر کے دوران عباس کے الیکشن ایجنٹ منصور انصاری بھی اسٹیج پر موجود تھے، جنہیں عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا سنائے جانے کے بعد عباس انصاری کی اسمبلی رکنیت یکم جون 2025 سے ختم کر دی گئی تھی۔
جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ماؤ کی موؤ صدر سیٹ پر ضمنی الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ لیکن ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب ضمنی انتخاب کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔