افغان امن عمل کیلئے حمایت پر مودی حکومت سے اظہار تشکر ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کا عزم
نئی دہلی: طالبان کے ساتھ افغانستان کے اعلیٰ امن مذاکرات کار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ہندوستان کے سرکاری دورے کے دوران بین افغان امن عمل کی ترقی سے ہندوستانی حکومت کو مطلع کرایا اور مختلف دو طرفہ ،علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کی۔ڈاکٹر عبداللہ افغانستان کے ہائی کونسل نیشنل کوآرڈینیشن (ایچ سی این آر) کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے افغان امن عمل کیلئے مکمل حمایت کا اظہار کرنے پر پڑوسی ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے علاقائی اتفاق رائے اور تعاون اہم ہے۔اپنے دورہ ہند کے اختتام کے بعد اپنے بیان میں ، انہوں نے کہا ، ‘‘ہندوستان کا سرکاری دورہ کامیاب رہا۔ میں وزیر اعظم ، وزیر خارجہ ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اور یہاں کے عوام کا ان کا پرتپاک خیرمقدم اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں پڑوسی ممالک کا افغان امن عمل میں مکمل تعاون کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ افغانستان میں امن کیلئے علاقائی اتفاق رائے اور تعاون بہت ضروری ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوول اور وزیر برائے امور خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر سے ملاقات کی اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے انہیں افغان امن عمل کے لئے ہندوستان کی مسلسل حمایت اور ملک کی ’’نیبرہڈ فرسٹ‘‘ پالیسی کے تحت دونوں ممالک کے مابین تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کیلئے ایک طویل مدتی عزم کی یقین دہانی دی۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ، ‘‘ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ نے وزیر اعظم کو افغان امن عمل اور دوحہ میں جاری مذاکرات سے آگاہ کیا۔ دونوں قائدین نے مختلف دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ “افغان قائد نے 30 ملین امریکی ڈالر کے منصوبوں کیلئے ہندوستان کی ترقیاتی وابستگی کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے ان کے ملک کے تمام 34 صوبوں کے عوام کو فائدہ ہو رہا ہے۔
