عبداللہ پور میٹ کے بعد اب سدی پیٹ میں برڈفلو کی توثیق

   

ہزاروں کی تعداد میں انڈے اور مرغیاں تلف ، عملہ کو طبی معائنہ کروانے کی ہدایت
حیدرآباد۔ 9۔اپریل(سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقہ عبداللہ پور میٹ ضلع رنگا ریڈی میں برڈ فلو کی توثیق اور ہزاروں مرغیوں کو تلف کئے جانے کے بعد اب تلنگانہ کے ضلع سدی پیٹ میں برڈ فلو کی توثیق ہوئی ہے اور محکمہ افزائش مویشیاں کی جانب سے کی گئی توثیق کے بعد محکمہ صحت نے الرٹ جاری کردیا ہے۔ گذشتہ ہفتہ حکام کی نگرانی میں عبداللہ پور میٹ میں برڈ فلو کی توثیق کے بعد ہزارو ں کی تعداد میں انڈوں اور مرغیوں کو تلف کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے اور اب سدی پیٹ کے تھوگوٹا منڈل میں موجود پولٹری فارم میں مرغیوں کی اموات کے بعد اڈیشنل کلکٹر سدی پیٹ مسز گریما اگروال نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے پولٹری فارم مالکین کو ہدایت دی کہ وہ سائنسی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے مرغیوں کو تلف کرنے کے اقدامات کریں یا متعلقہ محکمہ عہدیداروں کو صورتحال سے واقف کروائیں تاکہ ان کی نگرانی میں مرغیوں اور انڈوں کو تلف کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ضلع سدی پیٹ میں پہلی مرتبہ برڈ فلو کی توثیق ہوئی ہے اور اس توثیق کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر الرٹ جاری کرتے ہوئے موضع کنگل کے منڈل تھوگوٹامیں موجود پولٹری فارمس کی مرغیوں اور انڈوں کو تلف کرنے کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور مقامی عوام کے لئے انتباہ جاری کرتے ہوئے جس مقام پر برڈ فلو پایا گیا ہے اس مقام کے اطراف ایک کیلو میٹر تک کے حدود میں انڈوں اور مرغی کے استعمال کو ترک کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ عہدیدارو ںنے پولٹری فارمس میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا طبی معائنہ کروائیں تاکہ انہیں برڈ فلو کا شکار ہونے کی صورت میں فوری طور پر علاج کیا جاسکے۔ عہدیداروں کے مطابق ضلع کے تمام مواضعات کے علاوہ منڈلوں میں متعلقہ عہدیداروں کو متحرک کرتے ہوئے انہیں اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے منڈلوں میں موجود پولٹری فارمس کی مرغیوں کی جانچ کو یقینی بنائیں تاکہ برڈ فلو سے متاثرہ پرندوں کو فوری طور پر سائنسی طریقہ کار سے تلف کرنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ ذرائع کے مطابق ریاست بھر میں مرغیوں کی جانچ اور ان کی اموات پر محکمہ افزائش مویشیاں کی جانب سے خصوصی نظر رکھنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں تاکہ ممکنہ حد تک برڈ فلو کو پھیلنے سے روکا جاسکے اور عوام میں شعور اجاگر کرتے ہوئے اس بیماری کو پھیلنے نہ دیا جائے۔3