عبوری امریکی وزیردفاع پیٹرک شناہن کا غیرمعلنہ دورہ عراق

,

   

بغداد ۔ 12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پنٹگان کے عبوری سربراہ پیٹرک شناہن منگل کے روز بغداد کے غیرمعلنہ دورہ پر پہنچے جہاں وہ عراق سے امریکی افواج کے تخلیہ کے انتہائی حساس موضوع پر بات چیت کریں گے جہاں اب شام سے امریکی فوج کے تخلیہ کے بعد اس بات پر غوروخوض کیا جائے گا کہ آیا عراق میں امریکی فوج کی موجودگی ضروری ہے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو شناہن کو انتہائی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے جہاں انہیں عراقی قائدین کو باور کروانا پڑے گا کہ امریکہ بغداد میں اپنی فوج رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ کچھ روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہمیشہ کی طرح ایک اوٹ پٹانگ بیان دیتے ہوئے سب کو ناراض کردیا تھا کہ وہ بغداد کے شمال مغرب میں واقع الاسد ایئربیس میں امریکی فوج کو تعینات رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ وہاں سے ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ گذشتہ ماہ شناہن نے امریکہ کے عبوری وزیردفاع کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور اب وہ افغانستان سے راست طور پر بغداد پہنچے ہیں جہاں وہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے علاوہ فوجی مشیران اور کمانڈرس سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہیکہ ٹرمپ نے سی بی ایس ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران جسے 3 فبروری کو نشر کیا گیا تھا، یہ بیان دیا تھا جس کے بعد عراق کے صدر برہم صالح نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ عراق کو کسی تیسرے ملک کو نشانہ بنانے کیلئے بطور فوجی بیس کا استعمال کرنا عراقی آئین کے مغائر ہوگا۔