الہ آباد: عتیق احمد اور اشرف کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تین رکنی عدالتی کمیشن جمعرات کو کولون ہاسپٹل پہنچا، جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ عدالتی کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس اے کے ترپاٹھی اور ممبران (ریٹائرڈ آئی پی ایس سوبیش کمار سنگھ اور ریٹائرڈ جسٹس برجیش کمار سونی) نے جائے واردات کا معائنہ کیا۔اس دوران پورے علاقے کو حفاظتی گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔ عدالتی کمیشن کے ارکان نے پولیس سے قتل کے مقام پر موجود پولیس ملازمین کی تعداد کے بارے میں سوال کیا۔ دریں اثنا، جائے وقوعہ کا نقشہ بھی تیار کر لیا گیا۔قبل ازیں، اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی جمعرات کو کولون ہاسپٹل پہنچی تھی۔ ذرائع کے مطابق، ایس آئی ٹی کرائم سین کے ری کریشن کے لیے وہاں پہنچی تھی لیکن چونکہ عدالتی کمیشن بھی پہنچنے والا تھا، اس لیے کرائم سین کا ری کریشن ملتوی کر دیا گیا۔ ایس آئی ٹی کے ساتھ فرانسک ماہرین کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی تھی۔دریں اثنا، حملہ آور (لولیش تیواری، سنی اور ارون موریہ) اپنے موقف پر قائم ہیں کہ انہوں نے قتل صرف انڈرورلڈ میں اپنا نام کمانے کے لیے کیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے اب سب سے بڑا کام تینوں حملہ آوروں کی مدد کرنے والوں کا سراغ لگانا ہے۔ حملہ آوروں نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ انہیں آتشیں اسلحہ (جگانہ پستول جس کی قیمت تقریباً 7 لاکھ روپے ہے) کس نے فراہم کیا۔