عتیق-اشرف کے قتل کے لیے یوپی حکومت اور مرکز ذمہ دار’: بہن عائشہ نے سپریم کورٹ سے کہا، جانچ کے لیے کی بڑی مانگ

   

نئی دہلی:سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائے جس میں تقریباً دو ماہ قبل عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف احمد کی پولیس حراست میں ہلاکت کی تحقیقات کی جائیں۔ عتیق کی بہن عائشہ نوری کی جانب سے دائر عرضی میں سپریم کورٹ سے عتیق کے بیٹے اسد کے انکاؤنٹر کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہےعائشہ نے عرضی میں اپنے دو بھائیوں عتیق اور اشرف کے قتل کے لیے اتر پردیش حکومت اور مرکز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے الزامات میں یہ بھی کہا ہے کہ ریاست کے پولیس افسران کو یوپی حکومت سے مکمل تعاون مل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عائشہ نے اپنی عرضی کے ذریعے اپنے خاندان کے افراد کو مبینہ انکاؤنٹر سے تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے