قدیم سکریٹریٹ کے انہدام اور جدید سکریٹریٹ کی تعمیر میں حکومت تلنگانہ کی عجلت پسندی
حیدرآباد۔ ریاستی حکومت کی جانب سے سال 2015 میں عثمانیہ دواخانہ کی تزئین نو اور نئی عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی بلکہ متعد د مرتبہ کئے جانے والے عوامی مطالبہ کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے عثمانیہ دواخانہ کو ترقی دینے کی کوئی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ حکومت کی جانب سے سیکریٹریٹ کے انہدام اور نئی عمارت کی تعمیر کے لئے جاری سرگرمیوں کے دوران سوشل میڈیا پر حکومت سے یہ سوال کیا جانے لگا ہے اور عوام حکومت سے استفسار کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں دواخانوں میں سہولتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے یا نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کے لئے توانائی ضائع کرنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر کئے جانے والے اس سوال کے جواب میں اب تک کسی بھی سرکاری عہدیدار یا حکومت کے وزیر کی جانب سے کوئی جواب یا تبصرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے شہریوں کی جانب سے عثمانیہ دواخانوں کی تزئین نو اور نئی عمارت کی تعمیر کے علاوہ ماڈرن دواخانہ کے اعلان کے متعلق استفسار کیاجانے لگا ہے۔ ریاستی حکومت نے سال 2015میں دواخانہ عثمانیہ کو عصری سہولتوں سے آراستہ کرتے ہوئے نئی عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا تھا اور موجودہ تاریخی عمارت کی تزئین نو اور حفاظت کے منصوبہ کی تیاری کا بھی اعلان کیا گیا تھا لیکن اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شہر کے مرکزی مقام پر موجود اس دواخانہ عثمانیہ کے از خود منہدم ہونے کا انتظار کر رہی ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے دواخا نہ عثمانیہ کی قدیم تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن اس وقت تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں نے متحرک ہوتے ہوئے ریاستی حکومت کو ایسا کرنے سے باز رکھا تھا لیکن اب جبکہ سیکریٹریٹ کی عمارت کو منہدم کردیا گیا ہے تو سوشل میڈیا پر دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کے متعلق بھی خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کو فوری طور پردواخانہ عثمانیہ کی تزئین نو اور عصری دواخانہ کی تعمیر کے لئے منصوبہ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل آوری یقینی بنانی چاہئے ۔