دونوں مریضوں کو ساتھ رکھنے سے شہر کا دواخانہ کورونا وباء کے مرکز میں تبدیل ہونے کا خدشہ:جونیئر ڈاکٹرس
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ جونیئر ڈاکٹر اسوسی ایشن (ٹی جے یو ڈی اے) نے آج حکومت سے مطالبہ کیا کہ کووڈ۔19 سے متاثر اور غیر متاثر مریضوں کو ایک دوسرے کے ساتھ نہ رکھا جائے ورنہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کورونا وائرس وباء کا سب سے بڑے مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔ ٹی جے یو ڈی اے نے مطالبہ کیا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو یا تو کووڈ ۔19 کے علاج کا مخصوص مرکز بنادیا جائے یا پھر اس وباء سے غیر متاثر دیگر عام مریضوں کے علاج کے لئے رکھا جائے ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا اور کورونا سے متاثرہ مریضوں کو الگ تھلگ نہیں رکھا گیا تو اس صورت میں وباء پھیل سکتی ہے۔ ٹی جے یو ڈی اے نے عثمانیہ دواخانہ میں دوپہر 1.30 بجے ایک مریض کے ساتھ آنے والے شخص نے ایک جونیئر ڈاکٹر پر حملہ کردیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس دواخانہ میں علاج و معالجہ کیلئے خاطر خواہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ جونیئر ڈاکٹرس اسوسی ایشن نے کہا کہ اب واضح طور پر یہ کہنے کا وقت آگیا ہے کہ ان تمام واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں انتظامی (سرکاری) ناکامی اصل وجہ ہے۔ تمام مشتبہ کیسس کو ایک ہی وارڈ میں رکھا گیا تھا ۔ اس وارڈ میں تقریباً 15 کورونا مشتبہ کیسس تھے اور آج صبح مثبت پائے گئے۔ یہ اطلاع عام ہوتے ہی دیگر مریضوں کے رشتہ دار برہم ہوگئے اور یہ کہنے لگے کہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ غیر متاثر مریضوں کے ساتھ رکھنا خطرناک ہے کیونکہ اس صورت میں یہ وباء دوسروں تک منتقل ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ ٹی جے یو ڈی اے مطالبہ کرتا ہے کہ عثمانیہ دواخانہ کو یا تو مکمل طور پر کووڈ سنٹر میں تبدیل کیا جائے یا پھر اس کو غیر کووڈ دواخانہ کے طور پر برقرار رکھا جائے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اس دواخانہ میں کورونا سے متاثر اور غیر متاثر مریضوں کو ملایا نہ جائے اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو ایک ایسا دواخانہ نہ بنایا جائے جو ایسی لاپرواہی کے سبب کورونا وباء کے مرکز میں تبدیل ہوجائے۔
