حیدرآباد :۔ حیدرآباد کے لوگوں نے سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کو عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے ہیرٹیج بلاک کی مرمت اور تزئین نو کرنے کے اس کے وعدہ کو یاد دلایا ۔ شہریوں نے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی خستہ حالت کو سوشیل سائیٹس جیسے ٹویٹر پر شیر کرتے ہوئے اس کی مرمت اور تزئین نو کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ سوشیل سائٹس پر شہریوں نے یاد دلایا کہ اقتدار پر آنے کے بعد کے سی آر حکومت نے اس عمارت کی مرمت اور تزئین نو کرنے کا دو مرتبہ وعدہ کیا تھا ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی خراب حالت کا ذکر کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا ویشویشور ریڈی نے سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’ یہ ایک چالو دواخانہ ہے ۔ اسے یہ جانتے ہوئے بھی کے سی آر حکومت کی جانب سے نظر انداز کیا گیا کیوں کہ وہ اسے منہدم کر کے ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن انہیں احتجاجی مظاہروں اور عدالتوں نے اس سے روک دیا ۔ وہ کسی بھی طرح عثمانیہ ہاسپٹل کی بلڈنگ کو منہدم کرنا چاہتے ہیں ‘ ۔ ان کے اس نوٹ پر ردعمل میں ان کے موقف کی تائید و حمایت میں متعدد ٹوئیٹس پوسٹ کئے گئے ۔ ایک ٹوئیٹر صارف ہرشاڈاگا نے لکھا کہ ’ حکومت تلنگانہ نے گذشتہ سال 25 اگست کو ریاستی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی بلڈنگ کو مکمل طور پر خالی کردیا گیا اور اسے بند کردیا گیا ہے اور اس ہیرٹیج عمارت کے تحفظ ، مرمت اور تزئین نو کے لیے 19.2 کروڑ روپئے منظور کئے گئے لیکن تمام وعدے صرف کاغذ پر تھے ۔ ایک اور ٹوئیٹر ہینڈلر کا کہنا ہے کہ ’ عثمانیہ دواخانہ علاج و معالجہ میں بدانتظامی کا ایک مرکز بن گیا ہے ‘ ۔ ’ سوائے گراونڈ فلور کے فرسٹ اور سکنڈ فلور کی کئی ٹرسٹس کی جانب سے مرمت کی گئی ۔ 23 جولائی 2020 کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عثمانیہ بلڈنگ کا دورہ کیا تھا اور ایک ہفتہ میں اس کی مرمت اور تزئین نو کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ہفتہ ابھی نہیں آیا ہے ‘ ۔ یہ بات ڈاکٹر چیتنیہ نے کے سی آر کی جانب سے کئے گئے معرض التواء وعدوں کو یاد دلاتے ہوئے کہی ۔ نئی بلڈنگ صحت و صفائی کی خراب حالت کے بارے میں بتاتے ہوئے اسلم نے کہا کہ ’ میری بیٹی کو عثمانیہ نیو بلڈنگ میں شریک کیا گیا تھا ۔ اس وارڈ میں 120 سے زائد بیڈس ہیں لیکن اس میں صرف چھ واش رومس ہیں اور دو خراب حالت میں ہیں ۔۔