کورونا خدمات پر بھی 4 ماہ سے تنخواہوں کی عدم اجرائی تکلیف دہ
حیدرآباد۔13۔اگسٹ (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے دواخانو ںمیں آؤٹ سورسنگ ملازمین کی خدمات کو کس حد تک سنجیدہ لیا جا رہاہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دواخانہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے آؤٹ سورسنگ ملازمین کو گذشتہ 4 ماہ سے تنخواہوں کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور آؤٹ سورسنگ ملازمین اپنی تنخواہ کے حصول کیلئے احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت وباء کے اس دور میں صورتحال کو بہتر بنانے اور طبی خدمات میں بہتری لانے کے اقدامات کر رہی ہے لیکن دواخانہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے آؤٹ سورسنگ ملازمین کو وباء کے دور میں خدمات کے حصول کے باوجود تنخواہوں کی عدم اجرائی سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ آؤٹ سورسنگ ملازمین نے حکومت کی جانب سے 4ماہ سے تنخواہوں کی اجرائی عمل میں نہ لائی جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت آؤٹ سورسنگ ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہا ہے اور وباء کے اس دور میں جبکہ کورونا وائرس سے نمٹنے میں محکمہ صحت کے ملازمین کی جانب سے جان پر کھیل کر خدمات انجام دی جا رہی ہیں اس کے باوجود ان کی تنخواہوں کی عدم اجرائی ان کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوتی جا رہی ہے اوراسی لئے وہ احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔