حیدرآباد۔ 4 فروری (سیاست نیوز) عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے نعش پھر غائب ہونے لگی ہیں؟ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے مردہ خانہ سے ان دنوں ایک لاوارث نعش مشتبہ طور پر لاپتہ ہوگئی۔ افسوس کہ اس سنگین مسئلہ سے متعلق حکام نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لنگر حوض پولیس کی جانب سے ایک 50 سالہ نامعلوم شخص کی نعش کو عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے مردہ خانہ میں محفوظ کیا گیا تھا چونکہ پولیس کی تحقیقات میں نعش کی شناخت نہیں ہو پائی تھی اور وہ بظاہر مسلم نعش تھی۔ اکثر و بیشتر لاوارث مسلم نعش کو مذہبی طور طریقہ سے آخری رسومات (یعنی تجہیز و تکفین )کی انجام دہی کے لئے ایک مقررہ مدت کے بعد روزنامہ سیاست کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ہاسپٹل کے ذمہ داروں سے جب اس نعش سے متعلق دریافت کیا تو وہ اس سے لاعلم تھے اور نعش مبینہ طور پر غائب بتائی گئی۔ لنگر حوض پولیس نے اس لاوارث نعش کے متعلق تمام قانونی امور کی تکمیل کے بعد سیاست کے جنرل منیجر سے درخواست کی تھی جب ذمہ دار افراد نے عثمانیہ ہاسپٹل کے مردہ خانے سے تجہیز و تکفین کے لئے نعش حاصل کرنے پہنچے تو نعش غائب ہوگئی اور ذمہ داروں کی جانب سے اس لاوارث نعش سے متعلق مبینہ طور پر لاعلمی کا اظہار کیا جارہا ہے جو تشویش اور تعجب کا سبب بنا ہوا ہے۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے ذمہ داروں اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو اس سنگین مسئلہ کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے۔