قدیم عمارت کے تخلیہ کے بعد دشواریاں، بیڈس کیلئے گھنٹوں انتظار پر مجبور،تاریخی عمارت کا تحفظ ضروری
حیدرآباد۔6 ۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریاست کے تمام سرکاری دواخانوں میں انفراسٹرکچر سہولتوں میں اضافہ اور خاص طورپر بیڈس کی تعداد میں اضافہ کیلئے محکمہ صحت کو متحرک کیا ہے ۔ سرکاری دواخانوں کی صورتحال میں بہتری اور حیدرآباد کے اطراف چار سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کا اعلان یقیناً عوام کیلئے مسرت کا باعث ہے لیکن حیدرآباد شہر کے تاریخی عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو حکومت کی جانب سے نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی جانب سے قائم کئے گئے اس ہاسپٹل میں آج بھی نہ صرف تلنگانہ بلکہ پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مریض علاج کیلئے رجوع ہوتے ہیں۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ریاست کے تمام سرکاری دواخانوں بشمول گاندھی ہاسپٹل میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد سے زیادہ مریض عثمانیہ ہاسپٹل سے رجوع ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ وہاں بستروں کی تعداد میں اضافہ کے بجائے کمی کردی گئی ۔ کورونا وباء کے پیش نظر حکومت نے سرکاری دواخانوں میں بیڈس کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے لیکن عثمانیہ ہاسپٹل میں بیڈس کی تعداد میں کمی باعث حیرت ہے ۔ عثمانیہ ہاسپٹل کو حکام کی جانب سے مسلسل نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ قدیم عمارت کی خستہ حالی کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں ہے جس کے نتیجہ میں عمارت کے کئی حصوں میں خستہ حالی کے سبب وارڈس قا ئم نہیں کئے جاسکتے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بستروںکی کمی کے نتیجہ میں مریضوں کو اسٹریچر اور وہیل چیر پر 10 گھنٹوں سے زائد تک بیڈس کے انتظار میں رہنا پڑتا ہے۔ ہاسپٹل انتظامیہ بستروں کی فراہمی کے معاملہ میں بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ ہاسپٹل میں سابق میں بستروں کی تعداد 1100 تھی جو اب گھٹ کر 830 ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ توسیع شدہ نئے بلاکس میں جگہ کی قلت کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ سال بارش اور ڈرینج کا پانی داخل ہونے کے بعد قدیم عمارت کا تخلیہ کرایا گیا تھا۔ بستروں کی کمی کے باعث مریض ہنگامی حالت میں علاج کے لئے خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ بعض وارڈس میں ایک بستر پر دو مریض دیکھے گئے ہیں۔ کورونا کی موجودہ صورتحال میں ایک بستر کا دو مریضوں کی جانب سے استعمال خطرہ سے خالی نہیں۔ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں گاندھی ہاسپٹل کو کورونا کے علاج کے لئے مختص کردیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں غیر کورونا مریض عثمانیہ ہاسپٹل سے رجوع ہورہے تھے۔ غریب اور متوسط طبقات کیلئے عثمانیہ ہاسپٹل امید کی کرن ہے کیونکہ کارپوریٹ ہاسپٹلس بھاری رقومات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہاسپٹل کے حکام نے بتایا کہ روزانہ 170 سے زاء مریض شریک کئے جاتے ہیں ۔ مریضوں کے رشتہ داروں نے شکایت کی ہے کہ ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹر کے معائنہ کیلئے دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ بستر کے حصول میں کبھی ایک دن گزر جاتا ہے۔ کئی مریضوں کا اسٹریچر پر رکھ کر علاج کیا جارہا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ عثمانیہ ہاسپٹل ڈاکٹر ناگیندر کا کہنا ہے کہ کووڈ وباء کے پیش نظر مریضوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے ۔ مریضوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس قدیم اور تاریخی دواخانہ کا تحفظ کرے۔