عثمانیہ یونیورسٹی، حضور نظام کی دور اندیشی اور علم دوستی کی نشانی

   

نواب میر عثمان علی خاں کی برسی کے موقع پر آرٹس کالج میں طلبہ تنظیموں کا خراج عقیدت
حیدرآباد25 فروری(سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کی برسی کے موقع پر آرٹس کالج کے دامن میں انہیں طلبہ تنظیموں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا گیا اور موجودہ جمہوری حکومت کو سلطنت آصفیہ کی شاہی سے درس حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے نواب میر عثمان علی خان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جامعہ عثمانیہ کی طلبہ تنظیموں کے قائدین نے آرٹس کالج کے دامن میں منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ جامعہ عثمانیہ آصف سابع کی دوراندیشی اور تعلیم کو ان کی جانب سے دی جانے والی اہمیت کی نشانی ہے ۔ طلبہ و اساتذہ نے اس موقع پر بتایا کہ سلطنت آصفیہ کے دور میں ریاست دکن حیدرآباد کے جملہ بجٹ میں 11 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت اس میں اضافہ کے بجائے اس میں تخفیف کرتے ہوئے جملہ بجٹ کا صرف 7فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کر رہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تعلیم کو اہمیت نہیں دی جار ہی ہے۔ دلت اینڈ میناریٹی اسٹوڈنٹس اسوسیشن کے نمائندوں نے حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل کو حل نہ کئے جانے کے علاوہ ریاست میں تعلیم کو اہمیت نہ دیئے جانے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے والے طلبہ کو ہی حکومت تلنگانہ کی جانب سے محروم کیا جا رہاہے۔ اس موقع پر پروفیسر انصاری‘ ڈاکٹر گالی وند کمار‘ وی سنجئے ‘ جے درشن ‘ مظہر الدین کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ نواب میر عثمان علی خان کے یوم وفات کے موقع پر منعقد کی گئی اس تقریب کے دوران آصف سابع کی تعلیمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے کارناموں سے طلبہ کو واقف کروایا گیا ۔