عثمانیہ یونیورسٹی اراضی کے تحفظ کیلئے گورنر سے مداخلت کی اپیل

   

Ferty9 Clinic

کانگریس قائدین کی ٹی سوندرا راجن سے ملاقات، بااثر افراد کی سرگرمیوں پر روک لگانے کی خواہش
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) کانگریس قائدین کے ایک وفد نے آج گورنر تلنگانہ ٹی سوندرا راجن سے ملاقات کی اور عثمانیہ یونیورسٹی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت رائو اور رکن اسمبلی ٹی جگاریڈی نے گورنر کو یادداشت پیش کی جس میں عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی تفصیل بیان کی گئی۔ انہوں نے ناجائز قبضوں کے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات اور اراضی کے دوبارہ سروے کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔ گورنر سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر مجاز قابضین سے عثمانیہ یونیورسٹی کی قیمتی اراضی کا تحفظ کریں۔ یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے گورنر کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ بعض مفادات حاصلہ حکومت کی سرپرستی میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کی جانب سے قائم کردہ یونیورسٹی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ نظام حیدرآباد نے یونیورسٹی کے لیے 1628 ایکرس اراضی بطور تحفہ دی تھی تاکہ یونیورسٹی سے غریب طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے۔ یونیورسٹی کے قیام کا بنیادی مقصد کمزور طبقات کو اعلی تعلیم کی فراہمی تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے اور اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ حالیہ عرصہ میں بعض بااثر شخصیتوں نے بوگس اور نقلی دستاویزات کے ذریعہ یونیورسٹی کی اراضیات پر ملکیت کا دعوی کردیا اور تعمیری سرگرمیاں شروع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔ کانگریس قائدین کی جانب سے احتجاج کے بعد گزشتہ دنوں بلدی حکام نے غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کیا تھا۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ اراضیات پر قبضہ آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے بتایا کہ گورنر نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ضروری کارروائی کا یقین دلایا ہے۔