حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ممتاز انقلابی گلوکارہ شریمتی ویملکا نے ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل اگر عمل میں آئی ہے تو صرف اور صرف عثمانیہ یونیورسٹی طلباء کی وجہ سے ہی عمل میں آسکی۔ انہوں نے کہا کہ شاید مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اس بات کو بھول گئے ہیں ۔ شریمتی ویملکا نے پر زور الفاظ میں کہا کہ اب جو کوئی بھی سیاسی جماعتیں اور قائدین و عوامی تنظیمیں تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین کی جاری غیر معینہ مدت کی بس ہڑتال کی بھر پور تائید کررہے ہیں یہی تمام سیاسی جماعتیں و قائدین علحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد میں سرگرم حصہ ادا کرچکے ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا مسٹر چندر شیکھر راؤ کی ’ زبان ہے یا سیندھی کا پھڑا ہے ‘ شریمتی ویملکا نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مشورہ دیا کہ وہ حضور نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ہی بڑی بڑی باتیں کرنا ( زبان پر قابو نہ رکھتے ہوئے بات کرنا) کوئی مناسب طریقہ کار نہیں ہے بلکہ اپنی زبان پر قابو رکھیں تو مناسب بات ہوگی ۔۔